Epi1
📖 کہانی کا نام:
"جنون سے آگے"
---
👥 مرکزی کردار
1. ریحان خان
آرٹ کمپنی کا باس، کامیاب ڈیزائنر۔
مغرور، خود پسند، اور خود کو سب سے اوپر سمجھنے والا۔
اپنی سخت طبیعت اور attitude کے لیے مشہور۔
2. جہان خان
ریحان کا چھوٹا بھائی۔
نرم مزاج، سلجھے ہوئے خیالات والا، ریحان سے بالکل مختلف۔
اکثر اپنے بھائی کے رویے پر اختلاف کرتا ہے۔
3. خان صاحب (ریحان کے والد)
سخت گیر مگر اپنے بیٹوں سے بے حد محبت کرنے والے۔
ریحان کے غرور کو سمجھتے ہیں مگر احمد کی نرمی کو بھی سراہتے ہیں۔
4. نزہت بیگم (ریحان کی والدہ)
نرم دل، دعاؤں میں جینے والی عورت۔
بیٹوں کے بیچ توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
---
5. حیا مرزا
معصوم، خوابوں میں رنگ بھرنے والی سادہ سی لڑکی۔
آرٹ کمپنی میں بطور ڈیزائنر نوکری کرتی ہے۔
محنتی اور حساس دل رکھنے والی۔
6. سالیہ مرزا
حیا کی چھوٹی بہن۔
شرارتی، بولڈ اور اپنی بہن کے برعکس بے خوف۔
اکثر حیا کو کہتی ہے کہ "زندگی صرف خوابوں پر نہیں چلتی۔"
7. سلیم مرزا (حیا کے والد)
بیمار اور کمزور جسم کے مالک مگر اپنی بیٹیوں کے سہارا۔
غریبی اور بیماری نے تھکا دیا ہے، مگر حیا اور سالیہ کی فکر میں دن رات جیتے ہیں۔
چھوٹے سے شہر کی تنگ گلیوں میں ایک سادہ سا گھر تھا۔ اس کی چھت پر دھوپ کی نرم روشنی پڑ رہی تھی، اور اندر کی کمرے میں حیا مرزا ناشتہ تیار کر رہی تھی۔
حیا کے چہرے پر نیند کے اثرات ابھی باقی تھے، لیکن دل میں ایک عجیب سا جوش اور گھبراہٹ تھی۔ آج اس کا پہلا دن تھا شہر کی سب سے بڑی آرٹ اینڈ ڈیزائن کمپنی میں۔
"دی، ناشتہ جلدی بنا لیں نا، مجھے وقت پر جانا ہے۔"
سالیہ اپنی شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولی، کمرے سے باہر آتے ہوئے۔
حیا نے نرمی سے جواب دیا، "تم ہمیشہ دیر سے نکلتی ہو، پھر بھی شکایت؟"
سالیہ نے چٹکنے والی آواز میں کہا، "زندگی کو enjoy کرنے کے لیے کچھ تو کرنا چاہیے۔ تمہاری طرح ہر وقت سنجیدہ نہیں رہنا چاہیے۔"
اتنے میں حیا کے والد سلیم مرزا کمرے میں آئے۔ بیمار اور کمزور جسم کے باوجود وہ ہمیشہ بیٹیوں کی فکر میں رہتے۔
"بیٹا، آج کا دن تمہارے لیے خاص ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تمہیں کامیابی دے۔"
حیا نے اپنے والد کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا، "بابا، میں ہر قدم محنت کے ساتھ بڑھاؤں گی۔"
سلیم نے آنکھیں نم کرتے ہوئے کہا، "بیٹی، تمہاری محنت اور خلوص تمہیں کامیاب کریں گے۔ بس دل مضبوط رکھو۔"
---
🌇 صبح کا منظر: ریحان خان کا گھر
دوسری طرف، شہر کے پوش علاقے میں ایک شاندار بنگلہ تھا۔ بلند ستون، چمکدار فائنش اور ہر کمرے میں جدید آرٹ ورک۔ یہاں ریحان خان اپنے والد خان صاحب اور والدہ نزہت بیگم کے ساتھ رہتا تھا۔
خان صاحب اخبار پڑھ رہے تھے اور چائے پی رہے تھے۔ نزہت بیگم نرم لہجے میں اپنے بیٹوں کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔
"ریحان آج بھی دفتر دیر سے جا رہا ہے۔" نزہت بیگم نے آہستہ کہا۔
خان صاحب نے سر ہلاتے ہوئے کہا، "کام اس کی زندگی ہے، مگر کبھی کبھی نرمی بھی ضروری ہے۔"
اسی وقت ریحان نیچے آیا، کالے سوٹ میں ملبوس، ہاتھ میں فائل۔
"Good morning Dad."
اس نے مختصر لہجے میں کہا اور جلدی سے کرسی پر بیٹھ گیا۔
"ریحان، بس کام نہیں، زندگی میں تعلقات اور محبت بھی ضروری ہیں۔" خان صاحب نے نصیحت کی۔
ریحان نے مختصر طنزیہ مسکراہٹ دی، "Dad، بزنس میں دل نہیں، دماغ چلتا ہے۔"
چھوٹا بھائی جہان خان بھی میز کے پاس بیٹھا تھا۔ نرم مزاج اور سلجھا ہوا، وہ ریحان کے غرور پر اکثر مایوس ہوتا۔
✨ پہلی قسط
شہر کی سب سے مشہور آرٹ اینڈ ڈیزائن کمپنی "ریڈ وائٹ گیلری" اپنی چمک دمک اور کامیابی کے باعث ہر فنکار اور ڈیزائنر کے خوابوں میں بسی رہتی تھی۔ یہاں کام کرنے والے ہر شخص کے لیے یہ موقع کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔
اسی کمپنی کا باس، ریحان خان، اپنی شخصیت اور کام دونوں حوالوں سے مشہور تھا۔ لمبا قد، گہری آنکھیں، اور ایک ایسا اعتماد جو غرور کی حدوں کو چھوتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ ریحان کو دنیا کی ہر چیز مل گئی ہے—پیسہ، شہرت، اور طاقت۔ مگر اس سب کے باوجود اس کے رویے میں ایک ایسی سختی اور غرور تھا جس سے زیادہ تر ملازمین اس سے بات کرتے ہوئے ڈرتے تھے۔
---
دوسری طرف، حیا مرزا کی دنیا بالکل مختلف تھی۔ وہ ایک نازک خوابوں والی لڑکی تھی جو چھوٹے شہر سے بڑے خواب لیے یہاں پہنچی تھی۔ غریبی اور محرومی نے اسے مضبوط بنایا تھا، مگر دل کی معصومیت اور نرمی اب بھی اس کی سب سے بڑی پہچان تھی۔ حیا کے لیے یہ کمپنی صرف نوکری نہیں تھی، بلکہ ایک موقع تھا اپنی صلاحیت کو پہچان دلوانے کا۔
پہلے دن جب وہ کمپنی کے بڑے ہال میں داخل ہوئی، دل کی دھڑکنیں تیز تھیں۔ جدید آرٹ ورک سے سجے دیواریں، سفید فرش پر پڑتے ہوئے قمقموں کی روشنی، اور وہاں موجود پروفیشنل ڈیزائنرز کی سنجیدہ نظریں… سب کچھ اس کے لیے نیا تھا۔
"Excuse me, آپ نئی ڈیزائنر ہیں نا؟"
سامنے سے ایک لڑکی مسکراتے ہوئے بولی۔
"جی… میں حیا مرزا، آج میرا پہلا دن ہے۔"
اس نے گھبراہٹ سے جواب دیا۔
لڑکی نے ہاتھ بڑھایا، "میں صائمہ ہوں، گرافک ٹیم میں کام کرتی ہوں۔ آپ کا ویلکم ہے۔"
حیا نے سکون کا سانس لیا۔ کسی کی مسکراہٹ نئے ماحول میں ایک سہارا لگتی ہے۔
---
لیکن سکون کی یہ لہر زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ اچانک ہال کے دروازے سے ریحان خان اندر آیا۔ کالے سوٹ میں ملبوس، ہاتھ میں فائل پکڑے، چہرے پر شدید سنجیدگی اور غرور کی جھلک۔ کمرے میں جیسے سب کی سانسیں رک گئیں۔
"میٹنگ روم میں سب کو پانچ منٹ میں چاہیے۔"
اس کی بھاری آواز گونجی۔
تمام ملازمین تیزی سے اپنی چیزیں سمیٹنے لگے۔ حیا نے صائمہ کی طرف دیکھا، "یہ کون ہیں؟"
صائمہ نے حیرت سے اسے دیکھا، "تمہیں نہیں پتہ؟ یہ ہمارے باس ہیں… ریحان خان۔"
حیا کا دل ایک لمحے کو جیسے رک گیا۔ یہ وہ شخص تھا جس کے بارے میں اس نے صرف سنا تھا، مگر آج پہلی بار دیکھا تھا۔
---
میٹنگ روم میں جب سب اکٹھے ہوئے، ریحان نے اپنی کرسی پر بیٹھ کر سب کو ایک نظر دیکھا۔ اس کی نظریں تیز خنجر کی طرح لگ رہی تھیں۔
"ہماری نئی پروجیکٹ لائن آنے والی ہے، اور مجھے اس بار پرفیکشن چاہیے۔ کوئی بہانہ برداشت نہیں کروں گا۔"
اس نے سخت لہجے میں کہا۔
حیا نے آہستہ سے نوٹس لکھنے شروع کیے، لیکن اس کی لرزتی انگلیاں اس کی گھبراہٹ ظاہر کر رہی تھیں۔ اچانک ریحان کی نظر اس پر پڑی۔
"نئی ہو تم؟"
ریحان نے براہِ راست سوال کیا۔
"جی… میرا نام حیا ہے، آج میرا پہلا دن ہے۔"
ریحان نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ "امید ہے کہ یہاں وقت ضائع کرنے نہیں آئی ہو گی۔ یہاں محنت کے ساتھ attitude بھی چاہیے۔"
حیا نے نظریں جھکا لیں۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ یہ انسان کتنا خود پسند اور بے رحم ہے۔
---
میٹنگ ختم ہوئی تو سب باہر نکل گئے۔ حیا بھی اپنی میز پر جا بیٹھی، مگر دل میں عجیب سا خوف بیٹھ گیا تھا۔
"یہ کیسے انسان ہیں؟ کسی سے سیدھے طریقے سے بات نہیں کر سکتے؟"
اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اگر اسے اپنے خواب پورے کرنے ہیں، تو اسے اسی کے ماتحت کام کرنا ہوگا۔
---
اگلے چند دنوں میں حیا نے اپنی صلاحیت سے سب کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ اس کے ڈیزائنز میں معصومیت، سادگی اور جدت کا حسین امتزاج تھا۔ باقی ٹیم اس کی تعریف کرتی تھی، مگر ریحان ہمیشہ ٹھنڈے لہجے میں کہتا:
"Not bad… لیکن perfection ابھی دور ہے۔"
ریحان کے رویے نے حیا کو چیلنج کی طرح لے لیا۔ وہ ہر دن اپنی پوری کوشش کرتی کہ اسے غلط ثابت نہ ہونے دے۔ لیکن جتنا وہ محنت کرتی، ریحان اتنا ہی اس کی حوصلہ شکنی کر دیتا۔
---
ایک دن لیٹ شام کو، آفس تقریباً خالی ہو چکا تھا۔ حیا اپنے ڈیزائن پر کام کر رہی تھی۔ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور ریحان اندر آیا۔
"تم ابھی تک یہاں ہو؟" اس نے سخت لہجے میں پوچھا۔
"جی… یہ ڈیزائن کل کی میٹنگ کے لیے ہے، میں چاہتی ہوں یہ بہترین ہو۔"
حیا نے ہمت کر کے جواب دیا۔
ریحان نے ایک لمحے کو اسے غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی—محنت، لگن، اور خلوص کی۔
"تمہاری آنکھوں میں عجیب ضد ہے… لیکن یاد رکھو، اس دنیا میں ضد سے زیادہ طاقت پیسے اور تعلقات میں ہے۔"
اس نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور باہر نکل گیا۔
---
حیا نے آہستہ سے سر جھکا لیا۔ "شاید وہ صحیح کہتا ہے… لیکن میں اپنی محنت پر یقین رکھتی ہوں۔"
اس لمحے وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ کہانی صرف ایک نوکری یا ڈیزائن تک محدود نہیں رہے گی۔ یہ ایک ایسا سفر ہونے والا تھا جہاں جنون، انا، ضد اور محبت آپس میں ٹکرانے والے تھے۔