ماموں کے بیٹے کی زبردستی دلھن
ناول: ماموں کے بیٹے کی زبردستی دلھن
چیپٹر 1: اچانک اعلان
انایہ کی زندگی بہت سادہ تھی۔ یونیورسٹی، گھر، کتابیں، اور اس کی اپنی چھوٹی سی دنیا۔ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کی دنیا ایک شام میں بدل جائے گی۔
وہ خالہ کی بیٹی کی مہندی سے تھکی ہاری گھر آئی تھی۔ اس نے سوچا تھا کہ گھر جا کر چائے پی کر سو جائے گی۔ لیکن جیسے ہی اس نے گھر کا دروازہ کھولا، اسے لگا جیسے کچھ بدلا ہوا ہے۔
گھر میں بہت سے مہمان تھے۔ ماموں، مامی، اور ان کا بیٹا... زیان۔
زیان۔ پانچ سال بعد۔
جب وہ گیا تھا تو ایک ضدی سا لڑکا تھا جو ہر وقت انایہ کو تنگ کرتا تھا۔ اس کی کتابیں چھپا دیتا، اس کی چوٹی کھینچتا، اور کہتا "تم میری ہو، سمجھی؟"
اور اب... اب وہ واپس آیا تھا۔ لمبا قد، کالی شرٹ، گہری آنکھیں، اور چہرے پر وہی غصہ۔ لیکن اب وہ غصہ کسی اور طرح کا تھا۔ اسے دیکھ کر ڈر لگتا تھا۔
انایہ دروازے پر ہی رک گئی۔
مامی نے اسے دیکھتے ہی آواز دی، "ارے میری انایہ آگئی! آؤ بیٹا، ادھر آؤ۔ دیکھو کون آیا ہے۔"
انایہ آہستہ آہستہ اندر آئی۔ اس نے نظریں نیچی رکھیں۔
"السلام علیکم،" اس نے سب کو کہا۔
سب نے جواب دیا، سوائے زیان کے۔ وہ بس اسے دیکھ رہا تھا۔ ایسے جیسے پانچ سال سے اسی لمحے کا انتظار کر رہا ہو۔
انایہ بیٹھ گئی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیوں۔
پھر ماموں نے کھنکار کر کہا، "اچھا بھئی، سب یہاں ہیں تو ایک ضروری بات کر لیتے ہیں۔"
سب خاموش ہو گئے۔
"میں نے اور انایہ کی امی نے ایک فیصلہ کیا ہے،" ماموں نے کہا۔ "انایہ کی پڑھائی ماشاءاللہ مکمل ہو گئی ہے۔ اب اس کے ہاتھ پیلے کرنے کا وقت ہے۔"
انایہ کا دل ایک دم سے رک گیا۔
"اور لڑکا ہمیں باہر ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارا اپنا بچہ ہے۔ ہمارا زیان۔ ہمیں انایہ کے لیے زیان سے بہتر لڑکا کہاں ملے گا؟"
یہ سنتے ہی انایہ کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھوٹ گیا۔ کپ فرش پر گرا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔
"کیا؟" انایہ کی آواز بمشکل نکلی۔
"ہاں بیٹا،" مامی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "ہم نے سوچا ہے اگلے جمعے کو تم دونوں کا نکاح کر دیتے ہیں۔ سادگی سے۔"
"نکاح؟" انایہ کھڑی ہو گئی۔ "ماموں... یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ وہ میرا کزن ہے! وہ میرا بھائی ہے!"
"بھائی کہاں سے ہوا؟" مامی نے کہا۔ "ماموں کا بیٹا ہے۔ اور کزن میرج تو کتنی عام ہے۔"
انایہ نے اپنی امی کی طرف دیکھا۔ "امی... آپ کچھ بولیں نا... آپ نے ہاں کہہ دی؟"
امی نے سر جھکا لیا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ کچھ نہیں بولیں۔ ان کی خاموشی ہی ہاں تھی۔
انایہ کو لگا جیسے اس کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی ہو۔ اس کا سانس رکنے لگا۔
تبھی کسی کے قدموں کی آواز آئی۔ زیان اٹھ کر اس کے پاس آیا تھا۔
وہ اس کے اتنے قریب آیا کہ صرف وہی اس کی بات سن سکتی تھی۔
وہ جھکا اور اس کے کان میں سرگوشی کی،
"شش... اتنا ڈر کیوں رہی ہو، انایہ؟ تم تو بچپن سے جانتی ہو تم صرف میری ہو۔ تمہاری امی نے بھی مان لیا۔ اب تم کہیں نہیں جا سکتی۔ تمہارا یہ رونا، یہ آنسو... سب میرے ہیں۔ سمجھی؟"
اس کی آواز میں پیار نہیں تھا، قبضہ تھا۔ ایک جنون تھا۔
انایہ کو اچانک یاد آیا۔ جب وہ دس سال کی تھی، زیان نے اس کی ڈائری چھین لی تھی اور آخری صفحے پر بڑے بڑے لفظوں میں لکھا تھا:
"انایہ صرف زیان کی ہے۔ اگر کسی اور نے اسے دیکھا تو میں اس کی آنکھیں نکال دوں گا۔"
اس وقت اسے لگا تھا کہ یہ بچگانہ ضد ہے۔ لیکن آج... آج وہی ضد سچ ہو رہی تھی۔
"میں یہ نکاح نہیں کروں گی،" انایہ نے ہمت کر کے کہا، اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
زیان مسکرایا۔ ایک ایسی مسکراہٹ جس سے انایہ کو ڈر لگا۔
"تم کرو گی، انایہ۔ تمہیں کرنا پڑے گا۔ ورنہ..."
اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا، لیکن انایہ سمجھ گئی تھی۔ یہ دھمکی تھی۔
کیا انایہ اس زبردستی کے نکاح سے بچ پائے گی؟ کیا اس کی امی کبھی اس کے لیے آواز اٹھائے گی؟ اور زیان... وہ انایہ کو حاصل کرنے کے لیے کس حد تک جائے گا؟
جاری ہے...