صبر آگیا پھر؟
عروج:خدا سب کے لئے ایک جیسا نہیں ہوتا ۔
عماد: خدا تو سب کے لئے ایک جیسا ہوتا ہے ۔
عروج: نہیں نا!!!!!
عماد: کہانیاں مختلف ہیں ،امتحان مختلف ہیں مگر خدا سب کے لئے ایک جیسا ہوتا ہے ۔
عروج:پھر کیوں ڈالی گئی دل میں محبت جب ملنا ہی نہیں تھا ۔
عماد:اس سوال کا جواب شاید زندگی بھر نا ملے ۔
عروج: کچھ لوگوں کو آسانی سے ملوا دیا جاتا ہے ۔
عماد: بے شک کچھ لوگوں کو ساری عمر کے لئے جدا کردیا جاتا ہے ۔
عروج: محبت تو پاکیزہ ہوتی ہے نا ؟!!
عماد:پتہ تم میرے لئے سخت ترین امتحان ہو ۔تم میری یادوں میں آج بھی ہو اور ہمیشہ کے لئے رہو گی ۔
عروج: یادوں کے ساحل پر کشتی نہیں ہوتی ۔ہم صرف ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں ۔جا نہیں سکتے ۔۔۔۔
عماد: شاید اگر راستے مل بھی جائیں تو ہمارے پاؤں اسے مسافت کو طے کرنے کے لئے لڑکھڑا جائیں ۔
عروج:ہاں ہم ہارے ہوئے وہ لوگ ہیں جن کے لاشوں پر صرف اس لئے رحم کھایا جائے گا ،کہ ہم مر گئے ۔
عماد:پتہ ہے تمہیں حاصل کرنے کے لئے میں نے نماز کو قائم کیا؟
عروج: چھوڑ دی پھر کیا ؟؟
عماد: نہیں اس وقت میں مطلب کے لئے خدا کے سامنے جاتا تھا ۔
عروج:اور اب؟
عماد:اس کا شکر ادا کرنے جاتا ہوں کہ اس نے میرا امتحان اس چیز سے لیا جس کے لئے میں اسکے سامنے سجدہ کرتا تھا ۔
عروج:صبر آگیا پھر ؟؟
عماد: شاید جب انسان خدا سے زیادہ کسی کی محبت میں اسے بھول جاتا ہے تو ایک طرح کا ہم شرک کررہے ہوتے ہیں ۔
عروج: تو کیا محبت کرنا شرک ہے ؟
عماد: نہیں محبت شرک نہیں ہوتی ، شاید ہم نے درجہ دینے میں کہی تو غلطی کی ہوگی ۔
عروج: کیا زلیخا کو یوسف نہیں ملا تھا ؟
کیا یعقوب کو یوسف سے نہیں ملوایا گیا تھا ؟
عماد:پتہ ہے جب زلیخا کو یوسف کے خدا سے عشق ہوا تو وہ یوسف کی خوشبو سے دستبردار ہوگئی تھی ۔ اور جب تک یعقوب نبی نے یوسف کی یاد سے دستبرداری نہیں کی تب تک انہیں نہیں ملوایا گیا ، پتہ ہے کیوں؟
عروج: کیوں ؟
عماد: کیوں کہ انہوں نے حد سے زیادہ چاہا اور جب ان پر وہی آئی کہ اے یعقوب! تمہیں یوسف کس نے دیا تھا تو یعقوب نبی سمجھ گئے کہ خدا سے زیادہ کسی اور کو نہیں چاہا جا سکتا۔
عروج: میرے لئے دعا کرتے ہو نا؟
عماد: ہاں بہت زیادہ تمہاری صحت یابی کیلئے اور
تمہاری خوشبو کیلئے ۔
عروج:تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا ؟
عماد:کس بات کا ؟
عروج: میں نے پوچھا تھا کہ تمہیں صبر آگیا؟
عماد:کتنا سکون دیتی ہے نا وہ آیت کہ دنیا میں تم جس سے بچھڑ گئے میں تمہیں محشر کے روز اس سے ضرور ملواؤں گا۔
عروج: انشاء اللہ ہم ضرور ملیں گے۔