Title : Thappar
*ZIDDI SHAH - Episode 1
by Afshah Moazzam
"میں اس بوڑھے سے شادی نہیں کروں گی! امی میں مر جاؤں گی لیکن اس پچاس سال کے انکل سے شادی نہیں کروں گی!"
ماہم نے مہندی والے ہاتھوں سے اپنا بھاری جوڑا زمین پر پھینک دیا۔ اس کے ہاتھوں کی مہندی ابھی تک گیلی تھی۔ نیچے اس کی بارات آ چکی تھی۔ ڈھول کی آواز اس کے کانوں میں زہر لگ رہی تھی۔
اس کے باپ نے اس کی ماموں کی عمر کے ایک امیر آدمی سے اس کا رشتہ صرف پیسوں کے لیے طے کر دیا تھا۔ وہ آدمی شہر کا بہت بڑا زمیندار تھا لیکن عمر میں اس کے باپ جتنا تھا۔ ماہم صرف 20 سال کی تھی، یونیورسٹی میں پڑھتی تھی، اس کے خواب بہت بڑے تھے۔
امی رو رہی تھی اور اس کے ہاتھ جوڑ رہی تھی، "ماہم چپ کر جا میری بچی، تیری وجہ سے تیری چھوٹی بہنوں کی زندگی برباد ہو جائے گی۔ تیرا باپ ہمیں گھر سے نکال دے گا۔ تھوڑا صبر کر لے۔"
ماہم کھڑکی سے دیکھ رہی تھی، نیچے 20 گاڑیوں والا دولہا اپنی شیروانی سنبھالتے ہوئے اسٹیج پر بیٹھ چکا تھا۔ اس کے ساتھ آئے ہوئے لوگ کھانا کھا رہے تھے۔
اسی وقت محلے میں ایک کالی پراڈو تیز رفتاری سے آ کر رکی۔ اس پراڈو کی آواز سن کر سب کی نظریں اس طرف چلی گئیں۔ اس میں سے ایک 27 سالہ لمبا، خوبصورت لیکن بہت غصے والا لڑکا نکلا۔ اس نے کالا کرتا پہنا ہوا تھا اور آنکھوں پر کالی عینک تھی۔
یہ تھا *شاہ ویر شاہ۔*
پورے علاقے کا سب سے امیر اور سب سے خطرناک نام۔ جس کی ایک آواز پر بڑے بڑے لوگ خاموش ہو جاتے تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کے دل میں رحم نہیں ہے۔ اور سب سے بڑی بات، یہ ماہم کے ابو کا سب سے بڑا دشمن تھا، ان کا کاروباری دشمن۔
شاہ ویر نے اپنے گارڈ سے کہا، "یہ شادی نہیں ہوگی۔ یہ ظلم ہے۔"
گارڈ بولا، "لیکن شاہ صاحب، یہ آپ کا کیا لینا دینا ہے؟ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔"
شاہ ویر نے جیب سے پستول نکال کر ہوا میں فائر کیا۔
پوری بارات ہل گئی۔ عورتیں چلانے لگیں۔ دولہا ڈر کر اسٹیج سے اٹھ گیا۔
شاہ ویر اسٹیج پر گیا، بوڑھے دولہے کا کالر پکڑا اور سب کے سامنے بولا، "تیری عمر 50 ہے اور لڑکی 20 کی ہے۔ شرم نہیں آتی تجھے؟ ایک معصوم بچی کو خرید رہا ہے تو؟ چل دفع ہو یہاں سے۔ اگر دوبارہ اس گلی میں نظر آیا تو زندہ واپس نہیں جائے گا۔ سمجھا؟"
بوڑھا دولہا اور اس کی ساری بارات ڈر کے بھاگ گئی۔ 5 منٹ میں پورا ٹینٹ خالی ہو گیا۔ ماہم کے ابو کا چہرہ پیلا پڑ گیا تھا۔
ماہم اوپر کھڑکی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اس کی جان میں جان آئی۔ اس نے دل میں سوچا کہ شاید اللہ نے اس کی سن لی ہے۔
لیکن اس کی خوشی صرف 2 منٹ کی تھی۔
شاہ ویر نے نیچے سے چلاتے ہوئے کہا، "اوئے لڑکی! نیچے آ! جس نے تیری جان بچائی ہے اس کا شکریہ ادا نہیں کرے گی؟ باہر آ!"
ماہم غصے سے نیچے آئی۔ اس نے ابھی بھی وہی مہندی والا جوڑا پکڑا ہوا تھا۔
"آپ ہوتے کون ہیں میری شادی رکوانے والے؟ اور آپ نے اس طرح غنڈہ گردی کیوں کی؟"
شاہ ویر نے اس کی مہندی والی کلائی پکڑی اور سب محلے والوں کے سامنے کہا،
"میں کون ہوں؟ میں تیرا ہونے والا شوہر ہوں۔ تو اس بوڑھے سے شادی کرنے سے بہتر ہے مجھ سے کر لے۔ کم سے کم عمر کا تو ہوں، خوبصورت بھی ہوں اور امیر بھی۔ تجھے رانی بنا کر رکھوں گا۔"
یہ سن کر ماہم کا خون کھول گیا۔
ماہم نے اسی ہاتھ سے جس پر مہندی لگی تھی، شاہ ویر کے گال پر ایک زوردار تھپڑ مارا۔
*چٹاااخ!*
پورا محلہ خاموش ہو گیا۔ آج تک کسی نے شاہ ویر شاہ پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا۔ اس کے گارڈز نے پستول نکال لی۔
شاہ ویر نے اپنا گال پکڑا، اس کی آنکھیں لال ہو گئیں۔ لیکن وہ غصہ نہیں ہسا۔ اس نے ماہم کی کلائی اور زور سے پکڑ لی۔
"تھپڑ مارا ہے نا؟ اب اس تھپڑ کا بدلہ میں تجھ سے شادی کر کے لوں گا۔ کل تک تیار رہنا۔ کل تیرا نکاح مجھ سے ہوگا۔ ضدی شاہ سے۔ اور کوئی اس نکاح کو نہیں روک سکتا۔"
ماہم کی امی یہ سن کر بے ہوش ہوتے ہوتے بچی۔