bc

Queen -strike back

book_age18+
0
FOLLOW
1K
READ
dark
badgirl
prince
princess
bxg
lighthearted
campus
magical world
multiple personality
like
intro-logo
Blurb

یہ منظر ہیں ایران کے شہر اعراق کے جہاں شہزادی فاریہ اپنی کچھ سہیلیوں کے ساتھ باغ میں کھیل رہیں تھیں ۔شہزادی فاریہ اعراق کے بادشاہ شہزاد کی بیٹی ہیں۔ ان کی والدہ کا نام نعیم ہے ۔ شہزادی فاریہ کافی ضدی اور مغرور شہزادی ہیں ۔چلو فاریہ باہر بازار گھومنے چلتے ہیں ۔ شہزادی کی سہیلی ندہ نے کہا ہاں ہاں چلو چلتے ہیں ۔ شہزادی کی باقی سہیلیوں نے بھی ندہ کی بات پر رزہ مندی دی ہاں چلو ٹھیک ہے چلتے ہیں ۔ شہزادی نے مغروریت سے بالوں کی ایک لٹ کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے ہامی بھری۔شہزادی نے نوکر کو گھوڑے لانے کا کہا اور دربان کو حکم دیا کہ دروازہ کھول دیا جائے ۔دربان نے دروازہ کھولا تو اس وقت نوکر بھی چار گھوڑے لے کر آچکے تھے۔ادھر فراز جو کہ شہر اعراق میں فراز نام کا ایک لڑکا جو کہ لوہار تھا ۔ اس وقت شاید کوئی تلوار بنانے میں مصروف تھا ۔وہ ایک نہایت ہی خوبصورت اور خوبرو نوجوان ہونے کے ساتھ ساتھ کافی محنتی بھی تھا۔ اس کی خوبصورتی کے چرچے پورے بازار میں تھے ۔ وہ اپنی محنت سے دوسروں کی مدد بھی کیا کرتا تھا ۔وہ ابھی بھی تلوار بنانے میں مصروف تھا کہ اتنے میں بازار میں ہر طرف شور ہوا کہ شہزادی صاحبہ اپنے چند سہیلیوں کے ساتھ بازار میں تشریف لا رہی ہیں ۔ہر کوئی ایک قطار بنا کر سیدھی لائن میں کھڑا ہوگیا ۔کچھ لوگ دائیں طرف سر جھکائے لائن میں کھڑے تھے تو کچھ لوگ بائیں طرف سر جھکائے لائن میں کھڑے تھے ۔جب کہ وہ ابھی بھی اپنے کام میں مصروف تھا جیسے اسے شہزادی سے یا اس کی دوستوں سے کوئی فرق نا پڑتا ہو۔ابھی وہ ایک تلوار بنا کر دوسری بنانی شروع کر ہی رہا تھا کہ دور سے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز آتی سنائی دی ۔وہ ان آوازوں تو نظر انداز کرتا اپنے کام میں ہی مصروف رہا ۔جب شہزادی بازار میں اپنی سہیلیوں سمیت داخل ہوئیں ۔سب لوگ جلدی سے سر جھکائے شہزادی کی آمد پر حیران اور پریشان تھے ۔ کیوں کہ پچھلی بار جب شہزادی نے بازار کا دورہ کیا تھا تو کافی ساری دکانیں بند کر دیں تھیں ۔ شہزادی ابھی اپنا گھوڑا آگے بڑھاتی ہی کہ ان کی نظر فراز پر پڑی جو ہر چیز سے بے نیاز تلوار بنانے کے بعد اس کی رگڑائی کرنے میں مصروف تھا ۔لوگوں نے جب شہزادی کو اس طرف دیکھتے پایا تو پریشان ہوگئے ۔کیوں کہ فراز کے بارے میں ہر کوئی جانتا تھا کہ وہ کتنا محنتی انسان ہے ۔شہزادی نے ایک ملازم کو حکم دیا کہ وہ فراز کو یہاں بلا لائے۔شہزادی کی عمر بائیس سال تھی ۔ان کی باقی سہیلیاں بھی شہزادی کی ہم عمر تھیں ۔جب کہ فراز کی عمر پچیس سال تھی۔ شہزادی نے ملازم کو حکم دیا کہ وہ اس لڑکے کو کہے کہ شہزادی کے سامنے سر جھکا کر کھڑا ہوا ۔ویسے آپ لوگ بھی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ شہزادی نے خود کیوں فراز کو حکم نہیں دیا ۔کیوں کہ غریبوں سے بات کرنا بقول شہزادی کے ان کو سر پر چڑھانا ہوتا ہے ۔دوسرا یہ کہ شہزادی کو اس لڑکے کا اپنے سامنے سر جھکا کر کھڑا نا ہونا زہر لگا تھا ۔کوئی شہزادی کی بات کو انکار کرتا یہ چیز شہزادی کی شان کے خلاف تھی ۔ فراز نے ادب سے شہزادی کے سامنے سر کو خم دے کر اسے سلام کیا ۔شہزادی کے ماتھے پر بل پڑے تھے ۔ شہزادی کی گردن غرور سے اکڑ گئی تھی۔شہزادی نے اس کے سلام کا جواب دینے کی بجائے اپنے گھوڑے کی لگام کھینچی اور آگے بڑھتی گئی۔شہزادی کے جانے کے بعد فراز نے اپنی دکان کا رخ کیا ۔تو بھیڑ میں سے ایک ہاتھ نکلا جس نے فراز کی بازو کو دبوچا بھیڑ میں سے وہ چہرہ سامنے آیا تو وہ اور کوئی نہیں بلکہ فراز کا دوست غفران تھا ۔ادھر شہزادی اور اس کی دوستیں جنگل کے پاس آکر رکیں شہزادی نے اپنا گھوڑا ایک درخت کے ساتھ باندھا ۔اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ آگے کی طرف چل پڑی ۔آگے کی طرف چلتے ہوئے شہزادی نے نگاہ گھمائی تو انھیں ایک ہرن کا بچہ کھیلتا ہوا دیکھائی دیا ۔شہزادی جلدی سے شکار کی غرض سے ہرن کے بچے کی طرف بھاگی ‌ ۔ ابھی شہزادی آگے بڑھی ہی تھی کہ ایک دم سے پورے جنگل میں چیخوں کی آواز گونج اٹھی شہزادی نے نا سمجھی سے ادھر ادھر دیکھا مگر کچھ نا دکھنے پر وہ آگے بڑھ گئی۔ابھی وہ ہرن کے بچے سے چند قدم ہی دور تھی کہ ہر طرف گھنے بادل چھا گئے ۔اور ایک دم سے بجلی کڑکنے کی آواز گونجی ایک پل کو تو شہزادی ڈر گئی مگر اگلے ہی پل خود کو سنبھالتی ہوئی آگے بڑھ گئی ۔جب کہ شہزادی کی سہیلیاں خوف سے کانپے جا رہی تھیں ۔چیخوں کی آواز اتنی اونچی تھی کہ جنگل سے دور بازار سمیت محل میں بھی سنائی دی ۔ جس سے وہاں موجود ہر کوئی ڈر گیا ۔ اور بجلی کڑکنے پر کو سب کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے ۔بادشاہ نے فوری حکم دیا کہ شہزادی کو محل میں لیا جائے ۔جس پر شہزادی کی کنیز نے ادب سے جواب دیا کہ !شہزادی صاحبہ اس وقت اپنی سہیلیوں کے ساتھ جنگل گئی ہوئی ہیں ۔یہ سننا ہی تھا کہ شہزادی کی والدہ نعیم کی طبیعت جو کہ پہلے ہی خراب رہتی تھی مزید خراب ہوگئی ‌ ۔ادھر شہزادی ابھی تک ہرن کے بچے کا پیچھا کر رہی تھی۔ ادھر بادشاہ نے حکم دیا کہ شہزادی اور ان کی سہیلیوں کو محل میں لایا جائے ۔ملازم جلدی سے جنگل کی طرف بڑھے تھے ۔ ادھر شہزادی ہرن کے بچے کا شکار کرچکی تھی ۔ اب وہ اگلے شکار کی تیاری میں ہی تھی ۔کہ اتنے میں ایک بار پھر سے بجلی کڑکی ۔آواز اتنی تھی کہ فراز جو کہ اب لوہا گرم کررہا تھا ایک پل کو حیران ہی رہ گیا ۔ادھر جنگل کے بیچوں بیچ ہی ایک محل جو کہ سیاہ رنگ کا تھا ۔ اس کے دروازے خود بخود ہی کھلتے چلے گئے اور اگلے ہی پل کسی کے زور زور سے ہنسنے کی آوازیں گونجنے لگیں یہ آوازیں اتنی اونچی تھیں کہ محل تک سنائی دے رہیں تھیں ۔ ملازم شہزادی کو ڈھونڈتے ہوئے شہزادی کے پاس پہنچے اور انہیں بادشاہ کا حکم بتایا تو شہزادی اپنی سہیلیوں سمیت ہی محل کی طرف روانہ ہوگئی ۔ ابھی رات کے وقت شہزادی سو رہی تھی کہ ایسا سر میں درد اٹھا کہ کوئی حد نے شہزادی نے پانی پینے کے لیے اٹھنا چاہا تو ایسا محسوس ہوا کہ وہ بندھی ہوئی ہیں ۔ اگلے روز جب ملازمہ شہزادی کو اٹھانے کے لیے گئی تو شہزادی کو نا پاکر گھبرا گئی پوری محل میں یہ خبر پھیل گئی_ شہزادی کی غیر موجودگی کی خبر پورے بازار میں پھیل گئی تھی ۔

chap-preview
Free preview
Queen-strike back
یہ منظر ہیں ایران کے شہر اعراق کے جہاں شہزادی فاریہ اپنی کچھ سہیلیوں کے ساتھ باغ میں کھیل رہیں تھیں ۔شہزادی فاریہ اعراق کے بادشاہ شہزاد کی بیٹی ہیں۔ ان کی والدہ کا نام نعیم ہے ۔ شہزادی فاریہ کافی ضدی اور مغرور شہزادی ہیں ۔چلو فاریہ باہر بازار گھومنے چلتے ہیں ۔ شہزادی کی سہیلی ندہ نے کہا ہاں ہاں چلو چلتے ہیں ۔ شہزادی کی باقی سہیلیوں نے بھی ندہ کی بات پر رزہ مندی دی ہاں چلو ٹھیک ہے چلتے ہیں ۔ شہزادی نے مغروریت سے بالوں کی ایک لٹ کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے ہامی بھری۔شہزادی نے نوکر کو گھوڑے لانے کا کہا اور دربان کو حکم دیا کہ دروازہ کھول دیا جائے ۔دربان نے دروازہ کھولا تو اس وقت نوکر بھی چار گھوڑے لے کر آچکے تھے۔ادھر فراز جو کہ شہر اعراق میں فراز نام کا ایک لڑکا جو کہ لوہار تھا ۔ اس وقت شاید کوئی تلوار بنانے میں مصروف تھا ۔وہ ایک نہایت ہی خوبصورت اور خوبرو نوجوان ہونے کے ساتھ ساتھ کافی محنتی بھی تھا۔ اس کی خوبصورتی کے چرچے پورے بازار میں تھے ۔ وہ اپنی محنت سے دوسروں کی مدد بھی کیا کرتا تھا ۔وہ ابھی بھی تلوار بنانے میں مصروف تھا کہ اتنے میں بازار میں ہر طرف شور ہوا کہ شہزادی صاحبہ اپنے چند سہیلیوں کے ساتھ بازار میں تشریف لا رہی ہیں ۔ہر کوئی ایک قطار بنا کر سیدھی لائن میں کھڑا ہوگیا ۔کچھ لوگ دائیں طرف سر جھکائے لائن میں کھڑے تھے تو کچھ لوگ بائیں طرف سر جھکائے لائن میں کھڑے تھے ۔جب کہ وہ ابھی بھی اپنے کام میں مصروف تھا جیسے اسے شہزادی سے یا اس کی دوستوں سے کوئی فرق نا پڑتا ہو۔ابھی وہ ایک تلوار بنا کر دوسری بنانی شروع کر ہی رہا تھا کہ دور سے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز آتی سنائی دی ۔وہ ان آوازوں تو نظر انداز کرتا اپنے کام میں ہی مصروف رہا ۔جب شہزادی بازار میں اپنی سہیلیوں سمیت داخل ہوئیں ۔سب لوگ جلدی سے سر جھکائے شہزادی کی آمد پر حیران اور پریشان تھے ۔ کیوں کہ پچھلی بار جب شہزادی نے بازار کا دورہ کیا تھا تو کافی ساری دکانیں بند کر دیں تھیں ۔ شہزادی ابھی اپنا گھوڑا آگے بڑھاتی ہی کہ ان کی نظر فراز پر پڑی جو ہر چیز سے بے نیاز تلوار بنانے کے بعد اس کی رگڑائی کرنے میں مصروف تھا ۔لوگوں نے جب شہزادی کو اس طرف دیکھتے پایا تو پریشان ہوگئے ۔کیوں کہ فراز کے بارے میں ہر کوئی جانتا تھا کہ وہ کتنا محنتی انسان ہے ۔شہزادی نے ایک ملازم کو حکم دیا کہ وہ فراز کو یہاں بلا لائے۔شہزادی کی عمر بائیس سال تھی ۔ان کی باقی سہیلیاں بھی شہزادی کی ہم عمر تھیں ۔جب کہ فراز کی عمر پچیس سال تھی۔ شہزادی نے ملازم کو حکم دیا کہ وہ اس لڑکے کو کہے کہ شہزادی کے سامنے سر جھکا کر کھڑا ہوا ۔ویسے آپ لوگ بھی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ شہزادی نے خود کیوں فراز کو حکم نہیں دیا ۔کیوں کہ غریبوں سے بات کرنا بقول شہزادی کے ان کو سر پر چڑھانا ہوتا ہے ۔دوسرا یہ کہ شہزادی کو اس لڑکے کا اپنے سامنے سر جھکا کر کھڑا نا ہونا زہر لگا تھا ۔کوئی شہزادی کی بات کو انکار کرتا یہ چیز شہزادی کی شان کے خلاف تھی ۔ فراز نے ادب سے شہزادی کے سامنے سر کو خم دے کر اسے سلام کیا ۔شہزادی کے ماتھے پر بل پڑے تھے ۔ شہزادی کی گردن غرور سے اکڑ گئی تھی۔شہزادی نے اس کے سلام کا جواب دینے کی بجائے اپنے گھوڑے کی لگام کھینچی اور آگے بڑھتی گئی۔شہزادی کے جانے کے بعد فراز نے اپنی دکان کا رخ کیا ۔تو بھیڑ میں سے ایک ہاتھ نکلا جس نے فراز کی بازو کو دبوچا بھیڑ میں سے وہ چہرہ سامنے آیا تو وہ اور کوئی نہیں بلکہ فراز کا دوست غفران تھا ۔ادھر شہزادی اور اس کی دوستیں جنگل کے پاس آکر رکیں شہزادی نے اپنا گھوڑا ایک درخت کے ساتھ باندھا ۔اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ آگے کی طرف چل پڑی ۔آگے کی طرف چلتے ہوئے شہزادی نے نگاہ گھمائی تو انھیں ایک ہرن کا بچہ کھیلتا ہوا دیکھائی دیا ۔شہزادی جلدی سے شکار کی غرض سے ہرن کے بچے کی طرف بھاگی ‌ ۔ ابھی شہزادی آگے بڑھی ہی تھی کہ ایک دم سے پورے جنگل میں چیخوں کی آواز گونج اٹھی شہزادی نے نا سمجھی سے ادھر ادھر دیکھا مگر کچھ نا دکھنے پر وہ آگے بڑھ گئی۔ابھی وہ ہرن کے بچے سے چند قدم ہی دور تھی کہ ہر طرف گھنے بادل چھا گئے ۔اور ایک دم سے بجلی کڑکنے کی آواز گونجی ایک پل کو تو شہزادی ڈر گئی مگر اگلے ہی پل خود کو سنبھالتی ہوئی آگے بڑھ گئی ۔جب کہ شہزادی کی سہیلیاں خوف سے کانپے جا رہی تھیں ۔چیخوں کی آواز اتنی اونچی تھی کہ جنگل سے دور بازار سمیت محل میں بھی سنائی دی ۔ جس سے وہاں موجود ہر کوئی ڈر گیا ۔ اور بجلی کڑکنے پر کو سب کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے ۔بادشاہ نے فوری حکم دیا کہ شہزادی کو محل میں لیا جائے ۔جس پر شہزادی کی کنیز نے ادب سے جواب دیا کہ !شہزادی صاحبہ اس وقت اپنی سہیلیوں کے ساتھ جنگل گئی ہوئی ہیں ۔یہ سننا ہی تھا کہ شہزادی کی والدہ نعیم کی طبیعت جو کہ پہلے ہی خراب رہتی تھی مزید خراب ہوگئی ‌ ۔ادھر شہزادی ابھی تک ہرن کے بچے کا پیچھا کر رہی تھی۔ ادھر بادشاہ نے حکم دیا کہ شہزادی اور ان کی سہیلیوں کو محل میں لایا جائے ۔ملازم جلدی سے جنگل کی طرف بڑھے تھے ۔ ادھر شہزادی ہرن کے بچے کا شکار کرچکی تھی ۔ اب وہ اگلے شکار کی تیاری میں ہی تھی ۔کہ اتنے میں ایک بار پھر سے بجلی کڑکی ۔آواز اتنی تھی کہ فراز جو کہ اب لوہا گرم کررہا تھا ایک پل کو حیران ہی رہ گیا ۔ادھر جنگل کے بیچوں بیچ ہی ایک محل جو کہ سیاہ رنگ کا تھا ۔ اس کے دروازے خود بخود ہی کھلتے چلے گئے اور اگلے ہی پل کسی کے زور زور سے ہنسنے کی آوازیں گونجنے لگیں یہ آوازیں اتنی اونچی تھیں کہ محل تک سنائی دے رہیں تھیں ۔ ملازم شہزادی کو ڈھونڈتے ہوئے شہزادی کے پاس پہنچے اور انہیں بادشاہ کا حکم بتایا تو شہزادی اپنی سہیلیوں سمیت ہی محل کی طرف روانہ ہوگئی ۔ ابھی رات کے وقت شہزادی سو رہی تھی کہ ایسا سر میں درد اٹھا کہ کوئی حد نے شہزادی نے پانی پینے کے لیے اٹھنا چاہا تو ایسا محسوس ہوا کہ وہ بندھی ہوئی ہیں ۔ اگلے روز جب ملازمہ شہزادی کو اٹھانے کے لیے گئی تو شہزادی کو نا پاکر گھبرا گئی پوری محل میں یہ خبر پھیل گئی_ شہزادی کی غیر موجودگی کی خبر پورے بازار میں پھیل گئی تھی _

editor-pick
Dreame-Editor's pick

bc

Yüzbaşının Cerrahı

read
1.6M
bc

The Silver Wolf

read
626.1K
bc

The Billionaire’s Intern

read
1.2M
bc

Chosen, just to be Rejected

read
911.3K
bc

Inferno Demon Riders MC: My Five Obsessed Bullies

read
1.2M
bc

Claimed by the Biker Giant

read
2.3M
bc

Unscentable

read
2.3M

Scan code to download app

download_iosApp Store
google icon
Google Play
Facebook