محبت راز اور قربانیوں کی داستان
رات کے تقریباً دس بج رہے تھے۔ باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور چھوٹے سے گھر کی ٹین کی چھت پر بارش کے قطرے مسلسل آواز پیدا کر رہے تھے۔
ہانیہ کھڑکی کے پاس بیٹھی آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی عمر انیس سال تھی، مگر زندگی نے اسے اپنی عمر سے زیادہ سمجھدار بنا دیا تھا۔ وہ اپنے والد ارباز کے ساتھ ایک سادہ سے گھر میں رہتی تھی۔ ارباز ایک فیکٹری میں ملازم تھے اور اپنی بیٹی کی ہر خوشی پوری کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
"ہانیہ، بیٹا کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے،" ارباز نے محبت بھرے لہجے میں آواز دی۔
ہانیہ مسکرا کر میز کے پاس آ بیٹھی، مگر اس کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ پچھلے چند دنوں سے اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے والد اس سے کوئی بات چھپا رہے ہیں۔
اسی دوران دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔
اس وقت رات گئے کسی کا آنا غیر معمولی بات تھی۔ ارباز کے چہرے کا رنگ اچانک بدل گیا۔ وہ گھبراہٹ میں دروازے کی طرف بڑھے۔
دروازہ کھلا تو سامنے ایک سیاہ لباس میں ملبوس شخص کھڑا تھا۔
"وقت ختم ہو چکا ہے، ارباز صاحب..." اس شخص نے سرد لہجے میں کہا۔
ہانیہ نے دور سے یہ الفاظ سنے تو اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اس ایک جملے کے بعد اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدلنے والی ہے۔
اسے ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے ماضی کا ایک ایسا راز دفن ہے جو نہ صرف اس کی اپنی زندگی بلکہ کئی دوسرے لوگوں کی قسمت بھی بدل سکتا ہے...