bc

کشف

book_age18+
0
FOLLOW
1K
READ
family
friends to lovers
powerful
boss
drama
sweet
bxg
serious
city
like
intro-logo
Blurb

اپنے مرے ہوئے باپ کا قرض اتارنے اور بیمار ماں کو بچانے کے لیے حیا نے کی ایک امیر زادے سے شادی جو کہ صرف کاغذ تک محدود ہے. ایک امیر زادہ جس نے حیا کی بات مان کر اس سے شادی کر لی صرف اس کا قرض اتارنے کے لیے

chap-preview
Free preview
قسط ١ : کنٹریکٹ کی رات
"تمہیں آج اسے ختم کرنا ہو گا۔ اسے زندہ نہیں چھوڑنا۔ اسے آج ہی ٹھکانے لگا دینا۔" "جی دادا ڈان، میں کر دوں گا... بس اب جاؤ۔ جب ہو جائے تب بتانا۔" "باس، کال ہے کسی کی۔" "لاؤ، دو... ہاں، ہیلو؟" باس ڈان خاموش ہو کر اب فون کرنے والے کی بات سننے لگا۔ "اچھا، ٹھیک ہے۔ پیسوں کا انتظام ہو جائے گا۔ کتنے چاہیے؟" "دس لاکھ۔" "دس لاکھ؟ کیا کرے گا اتنے پیسوں کا؟" حیا، کالج سٹوڈنٹ، کھڑی یہ سب سن رہی ہے۔ "ٹھیک ہے، ہو جائے گا۔" باس نے کال کاٹ دی۔ "چلو خان بخش، گھر لے چلو مجھے۔" "اس ڈان دادا کے پاس بہت پیسے ہیں۔ میں ان سے مدد لیتی ہوں۔ ہٹو، مجھے راستہ دو۔" حیا ان غنڈوں کو ہٹا کر راستہ بنانے لگی۔ "اے چھوٹی بچی، ہٹو یہاں سے۔" ایک غنڈے نے حیا کو واپس پیچھے دھکیل دیا۔ "اب کیا کروں؟ ہمم، آئیڈیا! ڈان کی گاڑی میں چھپ جاتی ہوں۔ اس طرح میں ڈان سے مل پاؤں گی۔" حیا گاڑی کی ڈگی کھول کر چھپ گئی۔ گاڑی چل پڑی... "یا اللہ! مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے، پر یہ مجھے ملا ایک چانس ہے۔ مدد کیجیے۔" "لگتا ہے گاڑی گھر کے اندر جا رہی ہے۔" "باس، گھر آ گیا۔" "ہمم۔ آپ خان بخش بابا، اندر جا کر آرام کریں۔ مجھے ابھی کہیں نہیں جانا۔" "جی ڈان دادا۔" "لگتا ہے سب چلے گئے۔ اب باہر نکلتی ہوں۔" حیا گاڑی سے باہر آئی اور ڈان دادا کی تلاش میں گھر کے اندر چلی گئی۔ "افف، شکر ہے مجھے گارڈز نے نہیں دیکھا۔" "کتنا بڑا گھر ہے اور کتنا خوبصورت بھی ہے۔" حیا حسرت بھری نگاہوں سے پورے گھر کو دیکھنے لگی۔ وہ بھول گئی کہ وہ یہاں کیوں آئی ہے۔ وہ چلتے چلتے باس ڈان کے کمرے تک پہنچ گئی۔ "کتنا پیارا اور بڑا کمرہ ہے۔" حیا بیڈ پر چڑھ کر اچھل کود مچا دی۔ "واؤ! کتنا مزے کا بیڈ ہے۔ مجھے جھولے لے کر مزہ آ رہا ہے۔" حیا بیڈ پر کودنے میں مشغول اور ڈان باس واشروم کے دروازے میں کھڑا حیا کو ہنستے اور چھلانگیں لگاتا دیکھ خود بھی ہنس رہا ہے۔ "واؤ! مجھے یہاں سے کہیں نہیں جانااااااا!" حیا اونچی آواز میں بولی اور تھک کر بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی۔ حیا نے جیسے ہی واشروم کی طرف دیکھا تو ڈر گئی اور دل زور زور سے دھڑکنے لگا اس کا۔ باس ڈان ابھی واشروم سے نکلا تھا۔ گیلے بال، لوز سی شرٹ، ٹراوزر پہنے بہت کیوٹ اور ہینڈسم لگ رہا ہے۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا حیا کے قریب آیا اور اسے اٹھا کر بیڈ سے نیچے پھینک دیا۔ "تم کون ہو اور میرے گھر کیسے آئی؟" "م... میں حیا... حیا ہوں۔ ت... تو... م... مجھے..." حیا جیسے جیسے بات کرتی جا رہی تھی، ویسے ویسے ڈان دادا اس کے قریب چلتے ہوئے جا رہا تھا۔ اور حیا آہستہ پیچھے کی جانب جا رہی تھی۔ "آپ کی مدد چاہیے۔" "اوہ، کیسی مدد؟" "وہ... م... مجھے پیسے چاہیے۔" حیا پیچھے کی طرف جاتے جاتے دیوار سے جا لگی۔ "کتنے پیسے چاہیے تمہیں؟" باس ڈان نے حیا سے پوچھا اور اپنے ہاتھ حیا کے دونوں اطراف دیوار پر رکھ دیے۔ "چھوٹی سی بچی، کیوں مذاق کر رہی ہو میرے ساتھ؟ بتاؤ کون ہو اور کیسے آئی؟" "نہیں، مجھے سچ میں آپ کی مدد چاہیے۔ مجھے پیسے چاہیے۔" "اچھا، بتاؤ کیوں چاہیے تمہیں؟" "بتاتی ہوں۔ اس کے بعد میری مدد کرو گے؟" "سوچوں گا۔" "ٹھیک ہے، تو سنو۔ یہ کہانی شروع ہوتی ہے..." "چھوڑو مجھے! چھوڑو! بچاؤ! کوئی ہے؟ بچاؤ!" "نہیں چھوڑوں گا۔ پہلے مجھے قرض کے پیسے دو یا میری رکھیل بن جاؤ۔" "میں کہاں سے دوں قرضہ؟ میرا شوہر مر گیا ہے۔" "اسس! چھوڑو میرے بال!" اس آدمی نے نسیم بیگم کے بال کھینچے جس سے انہیں درد ہوا۔ "پیسے دو یا خود مجھ سے شادی کرو۔" "تم ہوش میں تو ہو؟ میں بھلا اس عمر میں شادی کروں، وہ بھی ایک غنڈے سے؟" "واہ واہ! جب تمہارا شوہر مجھ سے پیسے لے رہا تھا تب میں ایک غنڈا نہیں تھا؟ اب میں لوفر، غنڈا، آوارہ سب ہو گیا۔ دیکھو، جاؤ یہاں سے۔ میرے پاس ابھی کوئی بھی پیسے نہیں ہیں۔" "پیسے تو میں آج لے کر ہی جاؤں گا۔ ایسے تو میں نے جانا نہیں۔" "ٹھیک ہے، مجھے ایک ہفتے کا وقت دو۔ میں یہ گھر بیچ دوں گی اور تمہیں پیسے دے دوں گی۔" نسیم بیگم شاکا، یعنی غنڈے کے پاؤں میں بیٹھ گئی اور منتیں کرنے لگی۔ "ہاہاہا! نہیں کر پاؤ گی۔ پھر بھی چلو، ایک اور موقع دیتا ہوں۔ ویسے بھی شاکا اتنا بھی برا نہیں ہے۔" "چلو سب۔" نسیم بیگم جہاں بیٹھی تھی، وہیں بیٹھے رو پڑی۔ "ماں! ماں... امی، میں آپ کے ساتھ کچھ برا نہیں ہونے دوں گی۔" "نہیں حیا، تم ایسا کچھ نہیں کرو گی جس سے تمہیں کچھ ہو بیٹا۔" "ماں، آپ نے مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں ان لوگوں کا سر پھاڑ دیتی۔" "نن ... نہیں میری بچی، تم ہی ایک جینے کی وجہ ہو۔" دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کے گلے لگ کے رو پڑیں۔ "مم ... ماں، آپ نا سو جائیں۔ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔" "تو بھی سو جا۔ تجھے کل کالج جانا ہے۔ پہلا دن ہو گا، لیٹ نہ ہو جانا۔" "جی ماں۔" "ماں، میں آپ کا بدلہ لوں گی۔ معاف نہیں کروں گی ان سب کو۔ کیونکہ میری اٹھارہویں سالگرہ آنے والی ہے۔ میں بڑی ہو گئی ہوں سوچتے سوچتے کب حیا کی آنکھ لگ گئی اور وہ نیند کی وادیوں میں گم ہو گئی۔ _______________________ "اٹھو حیا، کالج جانے کا وقت ہو گیا ہے۔" "جی ماں، اٹھ رہی ہوں۔" اچانک حیا کو رات والا واقعہ یاد آیا۔ "نن ... نہیں ماں! میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی۔" "حیا، ضد مت کرو اور جاؤ کالج۔ مجھے کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ تم جاؤ اور میری ماں نہ بنو۔" بس اس کے بعد میں کالج نہیں گئی اور کالج کے راستے میں جو پارک ہے، وہاں بیٹھ گئی۔ اور گھر واپسی پر آپ مجھے نظر آئے تو میں آپ سے مدد لینے آ گئی اور آپ کی گاڑی میں بیٹھی تھی۔ "تم گاڑی میں آئی؟ بہت چالاک نہیں ہو تم؟" "مجھے نہیں پتہ میں چالاک ہوں یا نہیں۔ بس مجھے مدد چاہیے۔ آپ میری مدد کریں گے؟" "بالفرض اگر میں تمہاری مدد کروں، تو مجھے بدلے میں کیا ملے گا؟" "آپ چاہو تو میری عزت لے لویا مجھ سے شادی کر لو آپ کی غلام بن کر رہوں گی، پر پلیز میرا گھر بچا لو۔ میری ماں بیمار ہے۔" ڈان نے جب یہ سنا تو وہ حیا سے دور ہو گیا۔ "عمر کیا ہے تمہاری؟" "م... میں سترہ سال کی ہوں۔ کل میری برتھ ڈے ہے، 18 کی ہو جاؤں گی۔ آپ چاہو تو مجھ سے شادی کر لو۔ آپ کی غلام بن کر رہوں گی، پر پلیز میرا گھر بچا لو۔ میری ماں بیمار ہے۔" "ٹھیک ہے، میں کل آؤں گا۔ اور اپنی بات سے مکرنا مت۔" "میں نہیں پلٹوں گی اپنی بات سے۔ پکا پرامس۔ پر آپ مجھے اپنا نمبر دو۔ ایک منٹ، میرے پاس تو فون ہی نہیں ہے۔ تو میں آپ کو کال کیسے کروں گی؟ باس ڈان، مجھے اپنا فون دو جس سے میں آپ کو کال کروں گی۔" "اچھا، ایک منٹ۔ میں فون لاتا ہوں۔ یہیں بیٹھو۔" "یہ لو، یہ میرا فون ہے اور اس میں میری سم کارڈ ہے۔ نمبر اسی میں سیو ہے میرا۔ کل مجھے کال کر کے بتا دینا کہ کس ٹائم آنا ہے۔" "آپ کو کل تین بجے ہی آنا ہے۔ وہ غنڈے کل تین بجے ہی آئیں گے۔ اور میں دلہن بن کے بیٹھی ہوں گی۔ آپ کا انتظار کروں گی۔"

editor-pick
Dreame-Editor's pick

bc

Unscentable

read
2.0M
bc

He's an Alpha: She doesn't Care

read
800.2K
bc

Claimed by the Biker Giant

read
2.0M
bc

Holiday Hockey Tale: The Icebreaker's Impasse

read
1.0M
bc

A Warrior's Second Chance

read
374.8K
bc

Not just, the Beta

read
357.9K
bc

The Broken Wolf

read
1.2M

Scan code to download app

download_iosApp Store
google icon
Google Play
Facebook