قسط ٢: شادی کا دن

1254 Words
کل تین بجے ہی آنا ہے۔ اب میں چلتی ہوں۔۔۔ اللہ حافظ۔۔ اللہ حافظ۔۔۔ ڈان دادا نے دل ہی میں بائے کہا۔۔ حیا جلدی سے روم سے باہر آ گئی۔ میرا بیگ اتنا بھاری کیوں ہو رہا ہے؟ جلدی جلدی چلتے وہ گیٹ کے پاس آ گئی۔ گارڈ انکل، دروازہ کھولیں پلیز، مجھے باہر جانا ہے۔ آپ کون ہو اور اندر سے کہاں سے آ رہی ہیں؟ میں باس کو بلاتا ہوں۔۔ میں۔ ایسے نہیں جاؤ گی باہر۔۔۔ ارے گارڈ انکل، بہت جلدی میں اس گھر کی مالکن بننے والی ہوں۔ کیا مذاق کر رہی ہو چھوٹی بچی؟ میں نے کہا نا، تم ایسے نہیں جاؤ گی جب تک میں باس کو نہیں بلا لیتا۔ جانے دو اسے، میں نے ہی بلایا تھا۔ یہ جب بھی آئے تو اسے روکنا مت۔ حیا نے پیچھے کھڑے باس ڈان کو شکر گزار نگاہوں سے دیکھا۔۔ سنو لڑکی، تم کیسے گھر جاؤ گی؟ آئی تو تم میری گاڑی میں تھی، اب اتنے دور وہاں تک کیسے جاؤ گی؟ اوہ ہاں، یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں۔ آپ اپنے ڈرائیور کو بولیں مجھے گھر چھوڑ کر آئے۔ ڈرائیور کو میں نے آرام کا بولا ہے۔ چلو، میں ہی چھوڑ آتا ہوں۔ بیٹھو گاڑی میں۔ حیا گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔ اتنے میں گیٹ کھلا اور سکندر کی گاڑی گھر کے اندر انٹر ہوئی۔ رک جا وہیں سکندر۔ ڈان دادا نے سکندر کو گھر کے اندر آنے سے روک دیا۔ لیکن کیوں؟ سکندر نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا، گاڑی کے اندر بیٹھے بیٹھے ہی۔۔۔ تم باہر آؤ لڑکی، گاڑی سے۔ ڈان دادا نے حیا کو گاڑی سے واپس باہر نکلنے کا بولا۔ حیا گاڑی سے باہر آ گئی۔ جو سامنے گاڑی نظر آ رہی ہے نا، اس میں جا کر بیٹھو۔ جی۔۔۔ حیا بس صرف اتنا ہی بولی۔ سکندر حیران تھا کہ یہ چھوٹی سی بچی کون ہے اور وہ بھی ڈان دادا کے پاس۔ حیا سکندر کی گاڑی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔ ڈان دادا چلتے ہوئے سکندر کی گاڑی کے پاس آیا۔۔ سکندر، اس لڑکی کو اس کے گھر چھوڑ آؤ۔ جی۔ لیکن یہ ہے کون؟ سکندر، جتنا بولا ہے اتنا ہی کرو۔ جی۔۔۔ سکندر ڈان دادا کے بہت قریب ہے، جس کی وجہ سے وہ جو ڈان دادا سے بلا جھجک بات کرتا ہے۔ بس بھیا، میرا گھر آ گیا ہے۔ مجھے یہاں اتار دو۔ ایک تنگ سی گلی، سامنے ہی نیلے رنگ کا دروازہ اور اینٹوں سے بنا ہوا گھر۔ حیا گاڑی سے اتری اور اس گھر کے اندر داخل ہو گئی۔ سکندر اس کے گھر داخل ہونے تک اسے دیکھتا رہا۔ جب وہ اندر چلی گئی تو اس نے گاڑی ریورس کر لی۔ یہ لڑکی اتنی چھوٹی اور غریب سی ہے، یہ ڈان دادا کے کسی کام کی بھی نہیں ہے۔ ڈان دادا اس میں اتنا انٹرسٹ کیوں دکھا رہے ہیں؟ اس چھوٹی سی لڑکی میں کچھ الگ سا دیکھا ہے آج باس میں۔ کچھ بدلے ہوئے تھے ڈان دادا۔ میرا بچہ، تم کہاں چلی گئی تھی؟ ماں، میں کسی کام سے گئی تھی۔ یعنی تم آج کالج نہیں گئی؟ نہیں ماں، کالج نہیں گئی۔ پر کیوں؟ ماں، آج شام آپ کو پتا لگ جائے گا۔۔۔ اور ہاں ماں، محلے کی لڑکیوں کو بلا لینا اور کہہ دینا آج تمہاری بیٹی کی شادی ہے۔ کیا؟ یہ تو کیا کہہ رہی ہے؟ ٹھیک کہہ رہی ہوں ماں۔ کیا کر کے آئی ہے بتا مجھے؟ میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔ حیا تو دھوکہ کہاں جائے گی؟ یہاں لوگ آئے دن دھوکہ دیتے ہیں۔ نہیں ماں، وہ مجھے دھوکہ نہیں دے گا۔ وہ آئے گا۔ چھوڑو نا، تم جاؤ، اس سب کو کہہ دینا آج میرے نکاح میں آنا ہے۔ کچھ غلط تو نہیں کر رہی تو ماں؟ پلیز اور کچھ مت پوچھو مجھ سے۔ حیا یہ کہتے ہی اندر چلی گئی۔ اب جو بھی ہو جائے، میں شادی کر کے ہی رہوں گی۔ یہ گھر اور آپ کو بچاؤں گی۔ تین بج گئے۔ حیا تیار ہو کے بیٹھ گئی۔ سب لڑکیاں اس کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ وہ سب اسے کہہ رہی تھیں کہ ایسا کون سا مہاراجہ آنے والا ہے حیا؟ تو اتنی خوش ہے۔ کیا وہ بہت خوبصورت دکھتا ہے؟ ہاں، وہ بہت خوبصورت ہے۔ بہت پیارا ہے۔ اس کے بہت پیارے بال ہیں۔ اس کا بہت بڑا گھر ہے اور بہت بڑی گاڑی ہے۔ واہ، تیری تو لاٹری لگ گئی۔ لڑکیوں، تم باہر جا کے بیٹھو، مجھے حیا سے بات کرنی ہے۔ ماں نے اپنی بیٹی کو دلہن بنے روپ میں دیکھا تو بیٹی کو گلے لگا کر رو پڑی۔ ماں، آپ روئیں نہیں۔ اب ہمارے دکھ ختم ہو جائیں گے۔ آنٹی! آنٹی! باہر غنڈے آئے ہیں۔ کیا؟ وہ پھر سے آ گئے؟ آنے دو ماں، آج ان کا آخری دن ہے۔ اس کے بعد یہ ہمارے گھر نہیں آئیں گے۔ ڈان کو کال کرنے لگ گئی۔ ان کا نمبر کیوں بزی جا رہا ہے؟ اب کیا کروں؟ میسج کر دیتی ہوں۔ ہاں، یہ ٹھیک رہے گا۔۔ ڈان دادا، میرے گھر جلدی آئیے۔ وہ غنڈے میرے گھر آ گئے ہیں۔ پلیز مجھے آ کر بچا لو۔ ڈان دادا واش روم سے باہر نکلا اور آئینے کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ اتنے میں فون پر نوٹیفکیشن کی ٹیون بجی۔ ڈان دادا نے فون اٹھایا تو دیکھا کہ حیا کی دس کال اور ایک میسج سکرین پر جگمگا رہا ہے۔ ڈان دادا نے جیسے ہی میسج اوپن کیا اور میسج کو پڑھا تو جلدی سے باہر کو بھاگا۔ خان بخش، جلدی سے گاڑی نکالو۔۔۔ سکندر کو کال کرو جلدی سے اور اسے کہو کہ اس دن جس لڑکی کو گھر چھوڑا تھا، اس کے گھر آ جاؤ، مولوی کو ساتھ لے کر۔ جی ڈان دادا۔۔۔ تم لوگ میرے گھر کیوں آئے؟ چلے جاؤ یہاں سے۔ بولا تھا نا، تین دن بعد آنا، میں پیسوں کا انتظام کر دوں گی۔ تم لوگ میرے گھر کیوں آئے ہو؟ حیا کی امی ان غنڈوں سے لڑ پڑی۔ ہمیں پتہ لگا ہے کہ تمہارے گھر بہت سارے لوگ آئے ہیں، اور یہ بھی پتہ چلا کہ کوئی شادی وادی ہے تمہارے گھر۔۔۔ اتنے میں حیا کمرے سے دلہن بنی باہر آئی۔ یہ لڑکی کون ہے؟ بیٹی ہوں میں ان کی۔ واہ، اتنی پیاری! تو پھر تم پیسوں کے بجائے اسے ہمیں دے دو۔ دور رہو میری بیٹی سے۔ اسے ہاتھ بھی مت لگانا۔ دور رہو تم لوگ ہم سے۔ میرا ہونے والا شوہر ابھی آئے گا اور تم لوگوں کو۔ اچھا؟ ایسا ہے کیا؟ ہا ہا ہا ہا۔ ٹھیک ہے، انتظار کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ تمہیں کیسے بچاتا ہے ہم سے۔۔۔ وہ غنڈا جیسے ہی حیا کے قریب آ رہا تھا کہ اتنے میں باہر گاڑی کی آواز آئی۔۔۔ تم لوگ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ کیوں نہیں بگاڑ سکتا؟ تم ہوتی کون ہو مجھے دھمکانے والی؟ چھوڑو میرے بالوں کو۔ نہیں چھوڑوں گا۔ بلا لے اپنے یار کو۔ درد ہو رہا ہے، چھوڑو۔۔۔ چھوڑ دے اسے۔۔۔ نہیں چھوڑوں گا۔ ابے، تو ہے کون؟ وہ غنڈا بنا مڑے ہی بولا۔ میں نے کہا چھوڑ دے اسے۔۔۔ وہ غنڈا جیسے ہی مڑا تو ڈان دادا کو دیکھ کر۔۔۔ ڈان دادا آپ؟ ہاں میں۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی؟ غلطی ہو گئی ڈان، بس مجھے معاف کر دیجیے۔ وہ غنڈا ڈان دادا کے پاؤں میں بیٹھ گیا اور معافی مانگنے لگا، اور باقی غنڈے بھی۔ سکندر، انہیں لے جاؤ۔ بعد میں انہیں سمبھالوں گا میں۔ جی باس۔ ڈان باس نے حیا کی طرف دیکھا۔۔۔ باس کا دل حیا کو دیکھتے ہی زور زور سے دھڑکنے لگا۔ باس حیا کے پاس گیا...اٹھو لڑکی.. مولوی، نکاح شروع کرو۔۔۔ آپ اپنا پورا نام بتا دے باس ڈان. جی.. میرا نام..
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD