bc

qulb se qibla tak

book_age18+
0
FOLLOW
1K
READ
drama
another world
like
intro-logo
Blurb

_`ꜛ 𝐤𝐢𝐚 𝐤𝐫𝐭𝐞 𝐡𝐨? ⤸🤍`_ *_ꜛ⤸ اِنـّۡتـّۡظـّۡار ⤸⏳_*_`ꜛ⤸𝐤𝐢𝐬 𝐜𝐡𝐞𝐳 𝐤𝐚? ⤸🤔`_ *_ꜛ⤸مـّۡعـّۡجـّۡزوں کـّۡا ⤸✨_* _`ꜛ⤸𝐦𝐮𝐣𝐳𝐞 𝐡𝐨𝐭𝐞 𝐡𝐚𝐢𝐧? ⤸🤍`*ꜛ⤸ہـّۡاں بـّۡلـّۡکـّۡل ⤸🫶🏻_* _`ꜛ⤸𝐚𝐜𝐡𝐚 𝐛𝐚𝐭𝐚𝐨 𝐤𝐚𝐛 𝐡𝐨𝐠𝐚 𝐦𝐮𝐣𝐳𝐚? ⤸🥺`_ *_ꜛ⤸جـّۡب مـّۡیـّۡرا اَلـّۡلـّۡہ چـّۡاہـّۡے گـّۡا ⤸🤲🏻_* _`ꜛ⤸𝐨𝐫 𝐀𝐥𝐚𝐡 𝐤𝐚𝐛 𝐜𝐡𝐚𝐡𝐞 𝐠𝐚? ⤸🤍`_ *_ꜛ⤸جـّۡب مـّۡیـّۡرے حـّۡق مـّۡیـّۡں بـّۡہـّۡتـّۡر ہـّۡوگـّۡا ⤸✨_* _`ꜛ⤸𝐢𝐭𝐧𝐚 𝐲𝐚𝐪𝐞𝐧 𝐡𝐚𝐢? ⤸🥹`_ *_ꜛ⤸ہـّۡاں بـّۡلـّۡکـّۡل سـّۡب سـّۡے زِیـّۡادہ ⤸♥️_* _`ꜛ⤸𝐩𝐡𝐢𝐫 𝐚𝐚𝐧𝐤𝐡𝐨𝐧 𝐦𝐞𝐢𝐧 𝐚𝐧𝐬𝐮 𝐤𝐲𝐮𝐧? ⤸😢`_ *_ꜛ⤸یـّۡہ تـّۡو بـّۡس ثـّۡبـّۡوت ہـّۡے کـّۡہ خـّۡدا کـّۡا بـّۡنـّۡدا بـّۡہـّۡت کـّۡمـّۡزور ہـّۡے_ ⤸🫂* *_ꜛ⤸اور خـّۡدا کـّۡے کـّۡن کـّۡا مـّۡحـّۡتاج ہـّۡے_*🫠

chap-preview
Free preview
qulb se qibla
رات کے تین بج رہے تھے۔ جدہ ایئرپورٹ کے کارگو ایریا میں سردی تھی۔ کونوں میں لگی ٹیوب لائٹیں مدھم مدھم جل رہی تھیں۔ ایک لڑکا کھڑا تھا۔ عمر کوئی پچیس چھبیس۔ آنکھیں سرخ۔ چہرے پر تین دن کی داڑھی۔ اس کے سامنے لکڑی کا ایک صندوق پڑا تھا۔ صندوق پر بڑے بڑے حروف میں لکھا تھا: CARGO - FRAGILE. پر اندر کانچ نہیں تھا۔ اندر ایک لاش تھی۔ لڑکی کی۔ اس نے پاسپورٹ پر جعلی نام لکھوایا تھا۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر جھوٹا سبب۔ پیسے دیے تھے۔ بہت سارے۔ غیر قانونی طریقے سے وہ یہ لاش پاکستان سے لایا تھا۔ صرف ایک مقصد کے لیے۔ جنت البقیع میں دفن کرنے کے لیے۔ وہ جانتا تھا یہ غلط ہے۔ وہ جانتا تھا پکڑا جائے گا۔ پر اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ "بس ایک بار۔ ایک بار اسے وہاں سلا دوں۔" وہ سرگوشی کر رہا تھا۔ ہاتھ کانپ رہے تھے۔ صندوق کے تالے پر ہاتھ رکھتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ " معاف کر دو مجھے۔ میں تمہیں بچا نہیں سکا۔ کم از کم آخری آرام تو دوں۔" اس نے صندوق کھولا سفید کفن میں لپٹی لاش۔ چہرے پر نقاب۔ نقاب کے اوپر سے بھی وہ چاند جیسا تل نظر آ رہا تھا۔ ماتھے پر۔ وہ جھکا۔ لاش کے ہاتھ کو چوما۔ آنسو کفن پر گرے۔ "اللہ۔ بس جنت البقیع۔ مجھے اجازت دے دے۔" اتنے میں پیچھے سے سخت آواز آئی۔ "ہاتھ اوپر کرو!" چار سعودی پولیس والے۔ ہاتھوں میں بندوقیں۔ لڑکے نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ اس کی نظریں اب بھی لاش پر تھیں۔ "سر۔ پلیز۔" اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔ "اسے جنت البقیع میں دفن کرنا ہے۔ بس ایک بار۔" آفیسر آگے بڑھا۔ صندوق کی طرف لات ماری۔ "یہ لاش کس کی ہے؟ تم کون ہو؟ غیر قانونی امپورٹ؟ جانتے ہو یہاں سزا کیا ہے؟" لڑکا گھٹنوں کے بل گر گیا۔ ہاتھ جوڑ دیے۔ "میں قصور وار ہوں۔ مجھے جیل میں ڈال دیں۔ کوڑے مار لیں۔ پر۔۔۔ پر اسے دفنا دیں۔ وہ۔۔۔ وہ مستحق ہے۔" "کیوں؟" آفیسر چیخا۔ "تمہارا اس سے کیا رشتہ ہے؟" لڑکے نے آنکھیں بند کر لیں۔ آنسوؤں کے ساتھ لفظ نکلا۔ "قرب۔۔" وہ رک گیا۔ سانس لی۔ "اور سزا۔۔۔ قبلہ تک۔" آفیسر نے ہتھکڑی نکالی۔ "اٹھاؤ اسے۔" دو سپاہیوں نے لڑکے کے بازو پکڑ لیے۔ تیسرے نے صندوق بند کر دیا۔ لاش اندر قید ہو گئی۔ لڑکے کو گھسیٹ کر لے جاتے ہوئے اس نے ایک بار پلٹ کر دیکھا۔ صندوق پر لکھا تھا FRAGILE۔ اور اسے لگا جیسے اس کا دل بھی اسی صندوق میں بند ہو گیا ہے۔ پولیس وین کا دروازہ بند ہوا۔ سائرن بجے۔ اور دور اذان کی آواز آئی۔ فجر کی اذان۔ "اللہ اکبر۔ اللہ اکبر۔۔۔" لڑکا ہنس پڑا۔ روتے ہوئے ہنسا۔ "دیکھا ۔۔۔ تمہارے لیے اذان بھی ہو گئی۔" وین اندھیرے میں غائب ہو گئی۔ پیچھے رہ گیا ایک بند صندوق۔ یونیورسٹی کے کینٹین میں دوپہر کا رش تھا۔ ٹرے ٹکرانے کی آواز، لڑکوں کے قہقہے، اور پرانے اسپیکر میں بجتا کوئی ہلکا سا گانا۔ کھڑکی کے ساتھ والی لکڑی کی میز پر دو لڑکیاں بیٹھی تھیں۔ باہر اکتوبر کی دھوپ تھی اور اندر چائے کی بھاپ اڑ رہی تھی۔ ایک کا نام نیشا تھا۔ وہ ہمیشہ اونچی آواز میں بولتی تھی، ہر بات پر ہنستی تھی، اور دنیا کو اپنی مٹھی میں رکھنا چاہتی تھی۔ دوسری دیا تھی۔ خاموش گہری۔ اس کے ہاتھ میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی کتاب ہوتی تھی۔ آج بھی اس کے سامنے میز پر گیتا کا چھوٹا سا نسخہ رکھا تھا اور ساتھ ایک کپ کافی تھی جو آدھے گھنٹے سے ٹھنڈی ہو رہی تھی۔ نیشا نے اچانک جھک کر دیا کے ہاتھ سے کتاب کھینچی اور زور سے میز پر دے ماری۔ "بس بھی کر ۔ سارا دن بھگوان بھگوان۔ تھوڑا سانس بھی لے لیا کر۔ یہ دنیا بھی کوئی چیز ہے۔" دیا نے مسکرا کر کتاب اٹھائی، گرد جھاڑی اور دوبارہ گود میں رکھ لی۔ اس نے نرمی سے کہا "میں دنیا میں ہی ہوں نیشا۔ بس تمہارا شور مجھے دنیا سے تھوڑا دور کر دیتا ہے۔" نیشا نے آنکھیں گھما کر اسے اوپر سے نیچے دیکھا۔ "اچھا چھوڑ یہ سب۔ ایک بات بتا مجھے سچ سچ۔ تجھے آج تک کبھی سچی محبت ہوئی ہے؟ کسی نے دل دھڑکایا ہے؟" دیا نے کافی کا گھونٹ لیا۔ اس کے چہرے پر کوئی لہر نہیں آئی۔ وہ بہت دیر تک خاموش رہی پھر بولی "نہیں نیشا۔ مجھے کبھی محبت نہیں ہوئی۔" "کیوں؟" نیشا فوراً بولی۔ "تو تو کیمپس کی سب سے خوبصورت لڑکی ہے۔ آدھے لڑکے تجھے گھورتے ہیں۔ پھر کیا مسئلہ ہے؟" دیا نے انگلی سے کپ کے کنارے پر جمع پانی کے قطروں کو گول گول گھمایا۔ اس کی آواز دھیمی تھی مگر اس میں ایک عجیب سی سختی تھی۔ "کیونکہ محبت صرف دل نہیں مانگتی نیشا۔ وہ قرب مانگتی ہے۔ وہ ذمہ داری مانگتی ہے۔ اور میں کسی کے قرب کی ذمہ دار نہیں بن سکتی۔ میں خود اپنے فیصلوں کی ذمہ دار نہیں ہوں تو کسی اور کا دل کیسے سنبھالوں گی۔" نیشا نے تکیہ اٹھا کر دیا کے کندھے پر مارا۔ "ڈرامے باز کہیں کی۔ چل ٹھیک ہے مان لیا۔ لیکن فرض کر، صرف فرض کر کہ اگر تجھے کسی سے پیار ہو جائے تو؟ اگر دل نے ضد کر لی تو؟" دیا نے کتاب بند کر دی۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ وہاں دور یونیورسٹی کی مسجد کا سفید مینار نظر آ رہا تھا۔ مغرب کی اذان میں ابھی وقت تھا۔ نیشا نے سانس روک کر شرارت سے کہا "چل اور آگے چلتے ہیں۔ اور اگر۔ اگر خدا نخواستہ تجھے کسی مسلمان لڑکے سے محبت ہو جائے تو؟" کینٹین کا شور ایک پل کے لیے دیا کو بہت دور لگا۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا کپ ذرا سا کانپا۔ نیشا ہنس پڑی۔ "ارے ارے گھبرا کیوں گئی؟ میں تو بس مذاق کر رہی تھی۔" دیا نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں پہلی بار نمی اتری تھی۔ اس نے بہت آہستہ سے مگر صاف لفظوں میں کہا "بھگوان نہ کرے نیشا۔" نیشا کی ہنسی رک گئی۔ "کیوں؟ ایسا کیا ہے؟" دیا نے میز پر کہنیاں ٹکا کر اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔ جب اس نے سر اٹھایا تو اس کی آواز میں ایک عجیب سا درد تھا۔ "کیونکہ نیشا ہمارے راستے الگ ہیں۔ ہماری دعائیں الگ ہیں۔ ہمارے قبلے الگ ہیں۔ اور ہمارے جنازے بھی الگ ہوں گے۔ اگر میں نے دل لگا بھی لیا تو یا تو مجھے اپنا سب کچھ چھوڑنا پڑے گا، اپنا گھر، اپنا بھگوان، اپنی پہچان۔ یا پھر اسے اپنا سب کچھ چھوڑنا پڑے گا۔ اور میں کسی کو توڑ کر محبت نہیں کر سکتی۔ محبت جوڑتی ہے، توڑتی نہیں۔" نیشا نے آگے بڑھ کر دیا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "تو پھر چھوڑ دے نا سب کچھ۔ محبت کے لیے لوگ مذہب بھی چھوڑ دیتے ہیں۔" دیا نے ہلکا سا ہنس کر اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔ اس نے آنکھوں میں آتے پانی کو زبردستی پی لیا۔ "نہیں نیشا۔ کچھ محبتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف دعا بن کر ہی خوبصورت لگتی ہیں۔ جنہیں پورا نہیں کیا جاتا۔ جنہیں بس دل کے ایک کونے میں دفن کر دیا جاتا ہے۔" وہ کرسی سے اٹھی۔ گیتا کو بیگ میں رکھا۔ جانے سے پہلے وہ ایک لمحے کو رکی اور مڑ کر بولی "اور ہاں نیشا۔ اگر کبھی میری زندگی میں ایسا کوئی موڑ آیا بھی۔ تو سمجھ لینا کہ وہ میری زندگی کی سب سے بڑی آزمائش ہوگی۔" یہ کہہ کر دیا چلی گئی۔ نیشا پیچھے بیٹھی رہ گئی۔ اس کے سامنے دو ٹھنڈی کافی کے کپ پڑے تھے۔ --- شام کے چھ بجے تھے۔ کالج سے واپسی پر دیا کے قدموں میں آج عجیب سی تیزی تھی۔ رکشے سے اتر کر اس نے گلی کے نکڑ پر دوڑ لگا دی۔ گیٹ کھولتے ہی وہ اندر داخل ہوئی اور پورے گھر میں گونجتی آواز سے بولی "امییی! میں آ گئی!" گھر میں سکون تھا۔ کچن سے برتنوں کی کھنک اور صوفے پر رکھے بیگ کی آواز کے سوا کچھ نہیں۔ دیا نے دوپٹہ کندھے سے اتارا اور سیدھی صحن کی طرف بھاگی۔ وہاں لکڑی کی میز پر روہن بیٹھا تھا۔ روہن۔ اس کا کزن۔ ماموں کا بیٹا۔ عمر میں اس سے دو سال بڑا۔ ، بال الجھے ہوئے، اور سامنے انجینئرنگ کی موٹی موٹی کتابیں پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ سر جھکائے فارمولے یاد کر رہا تھا۔ چہرے پر سنجیدگی ایسی جیسے دنیا کا سب سے مشکل کام کر رہا ہو۔ دیا چپکے سے اس کے پیچھے جا کر کھڑی ہو گئی۔ سانس روکی۔ تین تک گنتی گنی۔ اور پھر ایک دم سے چیخی "بووو!" روہن کے ہاتھ سے پین چھوٹ کر فرش پر جا گرا۔ وہ اچھل کر کرسی سمیت پیچھے ہٹا۔ " تمہارا دماغ خراب ہے کیا؟" وہ غصے سے بولا مگر اس کی پیشانی پر پسینہ آ گیا تھا۔ دیا نے ہنستے ہنستے پیٹ پکڑ لیا۔ زمین سے پین اٹھا کر اس نے روہن کے کان کے پیچھے اڑا دیا۔ "ارے انجینئر صاحب اتنے ڈرپوک؟ آپ نے تو بڑے بڑے پل بنانے ہیں۔ ایک لڑکی کی آواز سے ڈر گئے؟" "شرم کرو۔" روہن نے پین واپس لیا اور کتاب پر جھک گیا۔ "میں پیپر کی تیاری کر رہا ہوں۔ تنگ مت کرو۔" دیا نے ضد میں کرسی گھسیٹ کر اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ دونوں کہنیاں میز پر رکھ کر ٹھوڑی ہاتھوں پر ٹکا دی۔ "نہیں کروں گی۔ آپ چھ مہینے بعد آئے ہیں۔ آج تو میں آپ کا جینا حرام کروں گی۔" روہن نے گھور کر دیکھا۔ " پلیز۔ یہ چیپٹر بہت ٹیکنیکل ہے۔" "اچھا چلو میں آسان کر دیتی ہوں۔" اس نے کتاب کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ "یہ والا فارمولا مجھے سمجھا دیں۔" "تمہیں کیا ضرورت؟ تمہارا تو آرٹس ہے۔" روہن نے کتاب کھینچ کر اپنی طرف کر لی۔ تو؟ آرٹس والی لڑکیاں دماغ نہیں رکھتیں کیا؟" دیا نے میز پر پڑا سیب اٹھایا اور بڑا سا کترا۔ "ویسے روہن بھیا پتہ ہے آج کالج کی کینٹین میں نیشا نے مجھ سے کیا پوچھا؟" روہن نے جواب نہیں دیا۔ بس کتاب کے صفحے پلٹتا رہا۔ دیا نے خود ہی کہا "اس نے پوچھا دیا تجھے کبھی سچی محبت ہوئی ہے؟ میں نے کہا نہیں۔" روہن کا ہاتھ ایک لمحے کو رکا۔ "شکر ہے۔ پڑھائی کرو۔ ان چکروں میں مت پڑو۔" دیا نے سیب چباتے ہوئے کرسی گھمائی۔ "اور اگر ہو جائے تو روہن بھیا؟ اگر دل نے مان لیا تو؟" روہن نے پہلی بار سر اٹھا کر دیا کو دیکھا۔ "کیا بے تکے سوال کر رہی ہو؟" دیا کھڑی ہو گئی۔ جانے سے پہلے اس نے جھک کر روہن کے سر پر ہلکا سا تھپکا مارا اور شرارت سے آنکھ ماری۔ "کچھ نہیں۔ بس ایسے ہی۔ آپ پڑھیں انجینئر صاحب۔" وہ ہنستی ہوئی اندر کی طرف دوڑ گئی۔ پیچھے روہن کتاب کو دیکھتا رہ گیا۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ دیا کی ہنسی کے پیچھے وہ ایک پل کی خاموشی کیوں تھی۔ کچن سے امی کی آواز آئی " بیٹا ہاتھ دھو لو۔ کھانا لگاتی ہوں۔" اندر سے دیا نے جواب دیا "ہاں امی! آج دال چاول اور روہن بھیا کے لیے خاص کھیر بھی بنانا!" --- رات کے نو بجے تھے۔ شہر سے باہر بنی ہوئی پرانی حویلی کے بڑے صحن میں سنگ مرمر کی میز پر کھانا لگا تھا۔ اوپر جھولتے فانوس کی روشنی سفید چادروں پر پڑ رہی تھی۔ ہوا میں ہار سنگھار اور اگر بتی کی خوشبو تھی۔ کونے میں رکھے تولسی کے پودے کے پاس دیا جل رہا تھا۔ میز کے ایک طرف دادی بیٹھی تھیں۔ سفید ساڑھی، گلے میں تسبیح، ماتھے پر چندن کا تلک۔ ان کے دائیں طرف دیا کی ممی تھیں۔ بائیں طرف روہن کی ممی، یعنی بڑی مامی۔ سامنے روہن کتاب بند کر کے گلاس میں پانی پکڑے بیٹھا تھا۔ اور آس پاس دیا کے تین چار کزنز ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔ دیا تھالی رکھ کر آئی اور دادی کے پاؤں چھو کر ان کے پاس بیٹھ گئی۔ کچھ دیر تک صرف کھانے کی آواز آتی رہی۔ پھر دادی نے کہا "روہن پتر۔ تمہاری انجینئرنگ کو کتنا وقت ہے؟" روہن نے فوراً جواب دیا "دادی ابھی دو سال۔" "ہمم۔" دادی نے سر ہلایا۔ "دو سال۔ پھر نوکری۔ پھر گھر۔ بس اب دیر نہیں کرنی۔" بڑی مامی نے فوراً ہامی بھری۔ "جی ماں جی۔ میں بھی یہی کہہ رہی تھی۔ لڑکا ہمارے سامنے جوان ہوا ہے۔ اب گھر بسانا چاہیے۔" دیا کی ممی نے پانی کا گھونٹ لیا اور آہستہ سے بولیں "اور ویسے بھی باہر کے رشتے کا کیا بھروسہ۔ اپنا خون اپنا ہوتا ہے۔ حویلی میں ہی بہو آ جائے تو کیا بات ہے۔ مندر بھی پاس ہے، سب رسم ایک ساتھ ہو جائیں گی۔" میز پر ایک دم سناٹا چھا گیا۔ کزنز نے ایک دوسرے کو دیکھا اور شرارت سے مسکرانے لگے۔ دیا نے گھبرا کر سر اٹھایا۔ "ممی آپ کیا کہہ رہی ہیں؟" دادی نے دیا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ ہاتھ بہت نرم اور ٹھنڈے تھے۔ "کچھ نہیں بیٹا۔ بس بڑوں کی بات ہے۔ ماماجی سے بات چلی تھی۔ کہتے ہیں روہن اور دیا کی جوڑی سب سے اچھی رہے گی۔ دونوں ایک ساتھ کھیلے ہیں۔ روہن سمجھدار ہے، ذمہ دار ہے۔ اور دیا۔ دیا اس حویلی کی رونق ہے۔ لکشمی ہے ہماری۔" بڑی مامی ہنس دیں۔ "ہاں ماں جی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ دیا بہو بن کر آئے گی تو یہ حویلی اور چمکے گی۔ دیوالی پر دیا ہی تو سب سے اچھے دیے جلاتی ہے۔" روہن کا چہرہ لال ہو گیا۔ اس نے جلدی سے کہا "دادی پلیز۔ میں نے ابھی شادی کا نہیں سوچا۔ میرا فوکس پڑھائی پر ہے۔" کزنز میں سے ایک لڑکی فزا بولی "ہائے روہن بھیا شرما کیوں رہے ہیں؟ دیا دیدی تو ویسے بھی آپ کے پیچھے پڑی رہتی ہیں۔" سب ہنس پڑے۔ دیا نے تکیہ اٹھا کر فزا کو مارا۔ "بدتمیز۔ میں کسی کے پیچھے نہیں پڑتی۔" دادی نے سب کو ہاتھ کے اشارے سے چپ کرایا۔ "بس کرو۔ لڑنا جھگڑنا تو میاں بیوی کا زیور ہوتا ہے۔ ہم نے سوچ لیا ہے۔ جب روہن کی نوکری لگے گی، منگنی کر دیں گے۔ پنڈت جی سے تاریخ نکلوا لیں گے۔" کھانے کے بعد سب اپنے کمروں میں چلے گئے۔ حویلی کی دوسری منزل کے کمرے میں دیا کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔ نیچے صحن میں روہن اکیلا ٹہل رہا تھا۔ ہاتھ جیب میں تھے۔ سامنے حویلی کے چھوٹے سے مندر میں گھنٹی بج رہی تھی۔ دیا نے آہستہ سے آواز دی "روہن بھیا۔" روہن نے اوپر دیکھا۔ "کیا ہے دیا؟" "آپ۔ آپ کیا سوچتے ہیں؟" دیا کی آواز کانپ رہی تھی۔ روہن نے آسمان پر چمکتے چاند کو دیکھا۔ "میں کچھ نہیں سوچتا۔ ابھی وقت نہیں ہے۔" "اور اگر دادی اور ممی زبردستی کریں تو؟" دیا نے پوچھا۔ روہن دو سیکنڈ خاموش رہا۔ پھر بولا "تو پھر دیکھیں گے دیا۔ کچھ فیصلے ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتے۔" یہ کہہ کر وہ اندر چلا گیا۔ دیا نے کھڑکی بند کی اور پلنگ پر بیٹھ گئی۔ حویلی کی دیواریں بہت اونچی تھیں۔ باہر باغ بہت بڑا تھا۔ پر اس کے دل میں ایک عجیب سی گھٹن تھی۔ ایک طرف اپنوں کی خواہش تھی۔ اور دوسری طرف۔ وہ انجانا ڈر۔ جس کا نام وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔

editor-pick
Dreame-Editor's pick

bc

Yüzbaşının Cerrahı

read
1.4M
bc

The Silver Wolf

read
535.5K
bc

The Billionaire’s Intern

read
1.1M
bc

Chosen, just to be Rejected

read
879.5K
bc

Inferno Demon Riders MC: My Five Obsessed Bullies

read
1.2M
bc

Claimed by the Biker Giant

read
2.3M
bc

Unscentable

read
1.2M

Scan code to download app

download_iosApp Store
google icon
Google Play
Facebook