dia

2540 Words
رات کے گیارہ بجے تھے۔ حویلی کی چھت پر بڑی سی دُری بچھائی ہوئی تھی۔ چاروں طرف ستارے جھلملا رہے تھے۔ نیچے باغ میں جھلروں کی روشنی اور اوپر ٹھنڈی ہوا۔ دری کے ایک کونے میں دادی والی بڑی چارپائی پر شربت اور پکوڑے رکھے تھے۔ اور چارپائی کے گرد سارے کزنز بیٹھے تھے۔ _نیشا_۔ سب سے بڑی۔ گوری، لمبے بال، ہر بات پر ہنسنے والی تھی ۔ _سیا_۔ نیشا سے چھوٹی، سانولی، بہت شرارتی، موبائل ہاتھ میں پکڑے ویڈیو بنا رہی تھی۔ _شانتی_۔ سب سے چھوٹی، معصوم، گود میں بلی کا بچہ لیے بیٹھی تھی۔ اور _ارجن_۔ روہن کا چھوٹا بھائی۔ ، کالج میں پڑھتا تھا، اور سب سے زیادہ سمجھدار بننے کی ایکٹنگ کرتا تھا۔ بیچ میں _دیا_ بیٹھی تھی۔ سب سے چھوٹی تھی وہ۔ عمر میں نیشا اور سیا دونوں سے چھوٹی تھی، پر باتوں میں سب سے گہری۔ نیشا نے پہلے پکوڑا اٹھایا اور کہا "یار آج گھر کا ماحول بہت عجیب تھا۔ دادی اور ممی لوگ روہن بھیا اور دیا کی شادی کی بات کر رہے تھے۔" سیا نے فوراً موبائل دیا کی طرف کیا۔ "سچ ؟ تیری تو لاٹری نکل گئی۔ حویلی کی بہو بن جائے گی۔ روہن بھیا بھی ہینڈسم ہیں۔" دیا نے شرما کر کتاب سے چہرہ چھپا لیا۔ "چپ کرو سیا دی۔ کچھ نہیں ہے۔ آپ لوگ بڑی ہیں، آپ کی پہلے شادی ہوگی۔" شانتی نے بلی کے بچے کو سہلاتے ہوئے معصومیت سے کہا "پر دیدی آپ روہن بھیا سے لڑتی بہت ہیں۔ شادی کے بعد کون جیتے گا؟" سب ہنس پڑے۔ ارجن نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے سنجیدگی سے کہا "شادی کوئی کھیل نہیں ہے شانتی۔ بڑوں نے سوچ لیا ہوگا تو ٹھیک ہی ہوگا۔ خاندان ایک ہی رہے گا۔" نیشا نے آنکھ ماری۔ "ہائے ارجن۔ تو اتنا سمجھدار کب سے بن گیا؟ چل بتا تجھے کیسی لڑکی چاہیے؟" ارجن نے کھنکار کر کہا "مجھے؟ مجھے ایسی لڑکی چاہیے جو۔۔ جو سمجھدار ہو۔ شرارت کم کرے۔ اور۔" وہ رکا اور ایک نظر دیا پر ڈالی۔ "اور گیتا پڑھنے والی ہو۔" سیا نے فوراً قہقہ لگایا۔ "اوہو۔ دیارہ کس طرف ہے ارجن؟ ہماری چھوٹی دیا کی طرف؟" دیا کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے فوراً بات بدلی۔ "چھوڑو یہ سب۔ نیشا دی آپ بتائیں کالج میں کیا نیا ہو رہا ہے؟" نیشا نے سیریس ہو کر کہا "کالج میں؟ بس وہی۔ لڑکے لڑکیاں۔ محبت۔ بریک اپ۔" پھر وہ دیا کے قریب سرک آئی اور دھیرے سے بولی "دیا سچ بتانا۔ تجھے کبھی کسی سے محبت ہوئی ہے؟" دیا کا ہاتھ کتاب پر رک گیا۔ ایک پل کے لیے چھت پر صرف ہوا کی آواز تھی۔ دیا نے بہت آہستہ سے کہا "نہیں نیشا دی۔" "کیوں؟" سیا نے پوچھا۔ دیا نے آسمان کی طرف دیکھا۔ "کیونکہ کچھ محبتیں دعا بن کر ہی اچھی لگتی ہیں۔ انہیں پورا نہیں کیا جاتا۔" ارجن نے یہ سنا تو چائے کا کپ میز پر رکھ دیا۔ اس کی نظریں ایک لمحے کے لیے دیا پر ٹھہریں پھر وہ اٹھ کر چھت کے کونے میں چلا گیا۔ نیشا نے سیا کو کہنی ماری۔ "دیکھا؟ کچھ تو بات ہے۔" شانتی نے بھولپن سے کہا " دیدی آپ روئیں گی تو نہیں نا؟" دیا نے ہنس کر شانتی کے گال کھینچے۔ "پاگل۔ میں کیوں روؤں گی۔ چلو اب سونے کا وقت ہو گیا۔ کل صبح مندر بھی جانا ہے۔" سب اٹھنے لگے۔ ارجن سب سے آخر میں اٹھا۔ جانے سے پہلے اس نے پیچھے مڑ کر دیا کو دیکھا۔ دیا کھڑکی کے پاس کھڑی چاند کو دیکھ رہی تھی۔ --- اتوار کی صبح تھی۔ حویلی سے تھوڑی دور پہاڑ کی گودی میں بنا ہوا پرانا کرشنا مندر۔ آج جنماشٹمی کا میلہ تھا۔ چاروں طرف رنگ برنگی جھنڈیاں، بانسری کی آواز، اور گھونگھروں کی چھنک۔ دیا نیشا اور سیا کے ساتھ آٹو سے اتری۔ اس نے ہلکے پیلے رنگ کا سوٹ پہنا تھا۔ دوپٹہ سر پر تھا، ہاتھ میں چھوٹا سا پرس۔ چہرے پر کوئی بوجھ نہیں تھا۔ بس بچوں والی خوشی۔ نیشا نے فوراً چوڑیاں والی دکان کی طرف دوڑ لگا دی۔ "دیا جلدی آ۔ یہ والی چوڑیاں تیرے سوٹ پر بہت اچھی لگیں گی۔" سیا نے موبائل نکالا۔ "رکو پہلے فوٹو۔ دیا ادھر دیکھ۔ ہنس۔" دیا نے ہنس کر V کا نشان بنایا۔ "سیا دی آپ ہر جگہ ویڈیو کیوں بناتی ہیں؟" "یادوں کے لیے چھوٹی۔" سیا نے آنکھ ماری۔ تینوں مندر کے اندر گئیں۔ سنگ مرمر کے فرش ٹھنڈے تھے۔ سامنے کرشنا جی کی مورتی تھی۔ مور پر پھولوں کا ہار، اور ارد گرد دیوں کی روشنی۔ پنڈت شلوک پڑھ رہے تھے۔ گھنٹیاں بج رہی تھیں۔ دیا نے ہاتھ جوڑے۔ آنکھیں بند کیں۔ بہت دیر تک چپ کھڑی رہی۔ دل میں بس ایک دعا مانگی۔ پھر ماتھے پر چندن لگوا کر باہر آ گئی۔ باہر پرشاد بٹ رہا تھا۔ نیشا نے دو پتیلے لیے۔ "ایک تیرا، ایک میرا۔" سیا نے سموسے کی پلیٹ اٹھائی۔ "دیا کھا لے۔ آج فاسٹ نہیں ہے نا؟" دیا نے ہنس کر سموسہ لیا۔ "نہیں دی۔ آج فاسٹ نہیں۔" وہ تینوں مندر کے صحن میں لگے پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھ گئیں۔ سامنے بچے جھولے جھول رہے تھے۔ ایک طرف بھجن منڈلی گانا گا رہی تھی۔ ہوا میں اگر بتی اور پھولوں کی خوشبو تھی۔ نیشا نے دیا کے کندھے پر سر رکھا۔ "مزہ آ رہا ہے نا؟" دیا نے سر ہلایا۔ "بہت۔ یہاں آ کر دل کو سکون ملتا ہے۔" سیا نے شرارت سے کہا "اور کوئی سکون دینے والا ہے؟ کوئی لڑکا؟ کالج میں؟" دیا نے فوراً سیا کے بازو پر ہلکا سا تھپڑ مارا اور ہنس پڑی۔ "سیا دی بس بھی کرو۔ مجھے کسی سے کوئی محبت نہیں ہے۔ نہ کالج میں، نہ کہیں اور۔ میرا دل ابھی پڑھائی اور دوستوں میں لگا ہے۔" نیشا ہنس پڑی۔ "سچ میں؟ ہماری چھوٹی دیا ابھی معصوم ہے۔" دیا نے آسمان کی طرف دیکھا۔ پتنگیں اڑ رہی تھیں۔ اس کے چہرے پر کوئی الجھن نہیں تھی۔ کوئی ڈر نہیں تھا۔ بس ایک عام سی لڑکی تھی جو میلہ انجوائے کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ارجن کا میسج آیا گروپ میں: "جلدی آؤ۔ دادی بلا رہی ہیں۔" تینوں کھڑی ہو گئیں۔ دیا نے آخری بار مندر کی طرف دیکھا، ہاتھ جوڑے اور مڑ گئی۔ اسے نہیں پتہ تھا کہ اگلی بار جب وہ اسی مندر آئے گی۔ تو اکیلی نہیں ہوگی۔ --- صبح کے دس بج رہے تھے۔ گھر میں ہلچل تھی۔ _امی_ نے دوپٹہ سر پر رکھا: "چلو بیٹا! نشا کی شادی ہے۔ شاپنگ کرنی ہے۔ ارجن اور روہان بھی آ گئے ہیں نیچے۔" دیا نے آخری بار آئینے میں خود کو دیکھا ۔ ہلکا لیموں کلر کا کرتا، دوپٹہ ڈھنگ سے لیا ہوا۔ ہاتھ میں وہ انگوٹھی جو امی نے کل رات پہنائی تھی۔ نیچے ارجن گاڑی کے ساتھ کھڑا تھا۔ سفید کرتا پاجامہ۔ ساتھ میں _روہن_ کھڑا مسکرا رہا تھا۔ دیا کو دیکھتے ہی بولا: "چلو ! بڑی بہن کی شادی کی شاپنگ کرتے ہیں۔" دیا نے سر ہلا دیا۔ نہ زیادہ خوشی، نہ اداسی۔ نشا_ ، خوش ہو کر بولی: "روہن بھائی! ہماری دیا سب سے سمجھدار ہے۔" گاڑی میں پانچ لوگ۔ آگے ارجن ڈرائیو کر رہا تھا۔ پیچھے روہن، پھر دیا، نشا اور سیا۔ روہن بار باتیں کر رہا تھا۔ دیا تمیز سے "جی" "ٹھیک ہے" کہہ رہی تھی۔ آگے ارجن خاموش تھا۔ بس ڈرائیو پر دھیان۔ --- بھیڑ، شور، رنگ۔ ہر طرف دلہن کا سامان تھا ۔ _نشا:_ "دیا یہ والا لہنگا دیکھو میرے لیے!" وہ پیچ کلر کا ہیوی لہنگا اٹھاتی ہے۔ دیا نے غور سے دیکھا: "نشا آپی یہ آپ پر بہت اچھا لگے گا۔ لائٹ کام ہے، ہیوی نہیں۔" _روہان_ فوراً بولا: "واہ! میری دیا کو تو بہت سمجھ ہے۔ تمہارے لیے بھی ایسا ہی لیں گے۔" _دیا نے سنجیدگی سے کہا:_ "روہان، مجھے ابھی نہیں لینا۔ میں پڑھائی مکمل کرنا چاہتی ہوں۔" روہان کا چہرہ تھوڑا سا اترا۔ _ارجن_ نے بس اتنا کہا: "دیا ٹھیک کہہ رہی ہے۔" چوڑیوں کی دکان پر روہان نے دیا کے ہاتھ میں چوڑیاں پکڑائیں: "یہ والی پہن لو۔ منگیتر ہو میری۔" دیا نے آرام سے چوڑیاں واپس رکھ دیں: "روہان، میں مجبوری میں ہاں کر رہی ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں خوش ہوں۔" دکان پر سناٹا چھا گیا۔ _ارجن_ نے ایک نظر دیا کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں عزت تھی۔ --- سب تھک کر ایک کیفے میں بیٹھ گئے۔ _روہان_ نے دیا کے سامنے کافی رکھی: "، کیا مسئلہ ہے؟" _دیا نے صاف لفظوں میں کہا:_ "روہان، میں کسی کو پسند نہیں کرتی۔ نہ تمہیں، نہ کسی اور کو۔ یہ رشتہ امی ابو نے کیا ہے۔ میں انکار نہیں کر سکتی۔ پر جھوٹا پیار بھی نہیں دے سکتی۔" روہان چپ ہو گیا۔ ارجن نے پانی کا گلاس دیا کے آگے سرکا دیا۔ کچھ نہیں بولا۔ سیا نے دیا کا ہاتھ تھاما: "تم نے بہت بہادری سے بات کی دیا۔" نشا نے سر ہلایا: "ہم تمہارے ساتھ ہیں۔" واپسی پر گاڑی میں خاموشی تھی۔ روہان سوچوں میں تھا۔ دیا کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ارجن نے گاڑی روک کر کہا: "دیا، اگر کبھی کوئی مدد چاہیے ہو تو بتانا۔" گھر آ کر دیا نے انگوٹھی نہیں اتاری۔ بس میز پر رکھ دی۔ امی کا میسج آیا: _"بیٹا وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔"_ دیا نے کتاب کھولی۔ دل میں کوئی طوفان نہیں تھا۔ بس ایک لکیر تھی۔ میں اپنی زندگی خود جیوں گی۔ --- رات کے نو بجے تھے۔ گھر کی چھت پر رنگ برنگی لائٹیں لگی ہوئی تھیں۔ نیچے صحن میں ڈھولک کی تھاپ گونج رہی تھی۔ ہر طرف مہندی کی خوشبو اور چوڑیوں کی کھنک تھی۔ _نشا کی مہندی_ تھی۔ _دیا_ کونے میں ایک کرسی پر بیٹھی تھی۔ اس نے ہلکا پیلا فراک پہنا ہوا تھا۔ ہاتھ بالکل خالی تھے۔ نہ مہندی، نہ چوڑیاں۔ صرف وہ انگوٹھی جو میز پر رکھی تھی۔ اس کا دل بالکل خاموش تھا۔سیا دوڑتی ہوئی آئی اور دیا کا ہاتھ پکڑ کر بولی: "دیا چلو نا! تمہارے ہاتھوں پر مہندی لگاتے ہیں۔ آج تو نشا آپی کی رات ہے۔" دیا نے ہلکا سا مسکرا کر کہا: "آپی میرا دل نہیں ہے۔ تم لوگ لگوا لو۔" سیا نے ضد نہیں کی۔ بس دیا کے پاس بیٹھ گئی۔ دوسری طرف _روہان_ اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ بار بار دیا کو دیکھ رہا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ دیا کے ہاتھ خالی ہیں تو وہ ایک مہندی والی کے پاس گیا اور کہا: "باجی ذرا ادھر آئیں۔" مہندی والی ٹرے لے کر دیا کے پاس آ گئی۔روہان نے شرارت سے کہا: " ہاتھ آگے کرو۔ میری منگیتر کے ہاتھ مہندی کے بغیر اچھے نہیں لگتے۔" دیا نے نظریں جھکا لیں۔ اس نے دھیرے سے کہا: "روہان مجھے نہیں لگوانی۔" روہان کا چہرہ اتر گیا۔ اس نے زبردستی نہیں کی۔ بس خاموشی سے وہاں سے ہٹ گیا۔ اسی وقت ارجن اوپر آیا۔ اس نے بلیک کرتا پہنا ہوا تھا۔ اس کی نظر سیدھا دیا پر پڑی۔ خالی ہاتھ، اداس چہرہ۔ وہ کچھ دیر دیا کو دیکھتا رہا۔ پھر آہستہ سے چل کر اس کے پاس آیا اور نیچے فرش پر بیٹھ گیا۔ارجن نے دھیرے سے کہا: "تم نے مہندی نہیں لگوائی؟" دیا نے سر نفی میں ہلایا۔ ارجن نے ایک لمبی سانس لی اور بولا: "اچھا کیا۔ جھوٹی خوشی کا دکھاوا کرنے سے بہتر ہے سچ میں اداس رہنا۔" دیا نے پہلی بار سر اٹھا کر ارجن کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔ بس سکون تھا۔ ڈھولک کی آواز تیز ہو گئی۔ لڑکیاں ڈانس کر رہی تھیں۔ نشا اسٹیج پر بیٹھی ہنس رہی تھی۔ ۔ _ارجن_ نے جیب سے ایک چھوٹا سا مہندی کا کون نکالا۔ دیا کی طرف بڑھایا اور کہا: "اگر کبھی دل کرے تو اپنے لیے لگا لینا۔ کسی کے لیے نہیں۔" دیا نے کون لے لیا۔ کچھ نہیں بولی۔ رات گہری ہو گئی۔ فنکشن ختم ہو گیا۔ سب اپنے کمروں میں چلے گئے۔ دیا نے کمرے میں جا کر وہ مہندی کا کون کھڑکی پر رکھ دیا۔ چاند کی روشنی اس پر پڑ رہی تھی۔ وہ جانتی تھی یہ مہندی کبھی اس کے ہاتھوں پر نہیں لگے گی۔ --- رات کے ڈھائی بجے تھے۔ حویلی میں مہندی کی تھکاوٹ کے بعد مکمل سناٹا تھا۔ _دیا_ اپنے کمرے میں سو رہی تھی۔ کھڑکی کھلی ہوئی تھی اور باہر چاندنی فرش پر پڑ رہی تھی۔ اچانک دور سے ایک دھماکے جیسی آواز آئی۔ پھر دوسری۔ پھر چیخیں۔ دیا کی آنکھ جھٹکے سے کھلی۔ دل زور سے دھڑکنے لگا۔ باہر شور تھا۔ لوگوں کے چلانے کی آوازیں۔ گولیوں کی آوازیں۔ وہ گھبرا کر اٹھی۔ دوپٹہ سر پر رکھے بغیر ہی کمرے سے باہر بھاگی۔ سیڑھیوں پر اندھیرا تھا۔ لائٹیں بند تھیں۔ صرف نیچے صحن سے آگ کی روشنی آ رہی تھی۔ _دیا_ کی سانس پھول رہی تھی۔ وہ لرزتے قدموں سے سیڑھیاں اترتی گئی۔ ہر قدم پر اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ صحن کا منظر دیکھ کر اس کے پاؤں زمین میں جم گئے۔ ہر طرف خاموشی تھی۔ وہ والی خاموشی جو موت کے بعد آتی ہے۔ فرش پر خون تھا۔ ٹوٹے ہوئے شیشے تھے۔ مہندی کی ٹریاں الٹی پڑی تھیں۔ _سب سے پہلے اسے دادی نظر آئیں۔_ صحن کے کونے میں پڑی تھیں۔ سفید دوپٹہ خون سے لال ہو چکا تھا۔ _دیا کی چیخ نکل گئی۔ "دادییی!" وہ بھاگی اور دادی کے پاس بیٹھ گئی۔ ان کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔ دادی کا جسم ٹھنڈا تھا۔ آنکھیں کھلی تھیں۔ جیسے آخری وقت تک دیا کو ہی ڈھونڈ رہی ہوں۔ "دادی آنکھیں بند کر لیں۔ میں آ گئی ہوں نا۔ اٹھیں نا دادی" دیا روتے ہوئے ان کا چہرہ سہلا رہی تھی۔ پر جواب میں صرف خاموشی تھی۔ پھر اس کی نظر سامنے گئی۔روہان فرش پر پڑا تھا۔ سینے پر زخم تھا۔ اس کا چہرہ اب بھی اسی طرف تھا جدھر دیا کا کمرہ تھا۔ جیسے آخری وقت میں بھی وہ اسے بچانے آیا ہو۔ _دیا گھٹنوں کے بل اس کے پاس گئی۔ "روہان ... اٹھو۔ میں نے صبح آپ سے بات کرنی تھی۔ ناراض نہیں ہونا تھا۔" اس نے روہان کا ہاتھ پکڑا۔ برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔ انگوٹھی جو اس نے کل پہنائی تھی وہ اب بھی روہان کی انگلی میں تھی۔ آگے امی اور ابو ایک دوسرے کے ساتھ گرے ہوئے تھے۔ نشا کا دوپٹہ ابھی بھی ان کے ہاتھ میں تھا۔ جیسے وہ بھاگ کر کسی کو بچانے آئی ہوں۔ _سیا _ دیوار کے ساتھ لگی تھیں۔ ان کے چہرے پر سکون تھا۔ جیسے سو گئی ہوں۔ _ارجن صحن کے گیٹ کے پاس پڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں اب بھی وہ مہندی کا کون تھا جو اس نے دیا کو دیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چھت کی طرف تھیں۔ دیا چیخ چیخ کر رو رہی تھی۔ اس کی آواز حویلی کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھی۔ "کوئی ہے؟ کوئی زندہ ہے؟ امی جواب دیں۔ ابو اٹھیں نا۔ ارجن بھائی آنکھیں کھولیں۔" پر کوئی نہیں اٹھا۔ رات کا اندھیرا اور خون کی بو۔ مہندی کی خوشبو اب زخموں کی بو میں دب گئی تھی۔ دیا نے سب کے سروں کو اپنی گود میں رکھنے کی کوش کی۔ جیسے وہ سب کو ایک ساتھ تھام لے۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ چہرہ آنسوؤں اور خون سے بھر چکا تھا۔ وہ زمین پر بیٹھ کر بہت دیر تک روتی رہی۔ روتے روتے اس کی آواز بیٹھ گئی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ چاند اب بھی ویسے ہی چمک رہا تھا۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ دیا کے دل میں صرف ایک جملہ گونج رہا تھا۔ قرب بھی نہیں ملا۔ قبلہ بھی چھن گیا۔ اب میں کس کے لیے جیوں حویلی میں اب صرف دیا کی ہچکیوں کی آواز تھی۔ اور دور کتوں کے بھونکنے کی۔
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD