دیا زمین پر بیٹھی رو رہی تھی۔ حویلی کی دیواریں اس کی ہچکیاں نگل رہی تھیں۔
اچانک بجلی چلی گئی۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا صحن کے کونے میں دیا کو ایک سایہ نظر آیا لمبا چوڑے کندھوں والا۔
سایہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ قدموں کی آواز نہیں تھی۔ بس فرش پر گھسیٹنے کی ہلکی سی آواز۔
دیا کا دل حلق میں آ گیا۔ "ک...کون ہے؟"
سایہ نہیں رکا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی چیز چمک رہی تھی۔ شاید چھری شاید ڈنڈا۔
سایہ ایک دم دیا پر جھپٹا۔
دیا نے چیخ ماری اور پاس پڑے ہوئے لکڑی کے پائے سے وار کیا۔ پر دیر ہو چکی تھی۔ سر پر زور دار ضرب لگی۔
دنیا گھوم گئی۔
آخری چیز جو دیا نے دیکھی وہ سایہ کا جھک کر اس کے اوپر آنا تھا۔
---
کتنی دیر گزری دیا نہیں جانتی تھی۔
جب آنکھ کھلی تو سر میں شدید درد تھا۔ کانوں میں بھنبھن تھی۔
کہیں دور سے ایک لڑکی کی آواز آ رہی تھی۔ کانپتی ہوئی۔ جلدی جلدی۔
لڑکی کی آواز سنائی دی : "جلدی کرو! یہ سانس لے رہی ہے۔ شکر ہے اللہ کا۔"
"دیکھو! سراج نے ہی ہماری مدد کی۔ اور ساتھ میں اس لڑکی کی بھی۔"
دیا نے ہونٹ ہلانے کی کوش کی۔ "س... سراج؟"
لڑکی فوراً اس کے پاس آئی۔ دیا کا سر اپنی گود میں رکھا۔
"چپ رہو بہن۔ تم محفوظ ہو۔"
دیا نے آخری بار لڑکی کا چہرہ دیکھنے کی کوش کی۔ گورا رنگ۔ بڑی آنکھیں۔ آنسو۔ ہونٹوں پر سراج کا نام۔
پھر آنکھوں کے آگے پھر اندھیرا چھا گیا۔
---
پتہ نہیں کتنا وقت گزرا۔
جب دیا کی آنکھ کھلی تو وہ فرش پر لیٹی تھی۔ سر میں پٹی بندھی ہوئی تھی۔
حویلی خالی تھی۔ نہ لاشیں نہ خون نہ وہ لڑکیاں نہ سراج۔
صرف خاموشی۔ اور دور سے فجر کی اذان کی آواز۔
دیا لڑکھڑاتے ہوئے اٹھی۔ ہر طرف اجاڑ تھا۔ ٹوٹا ہوا سامان۔ دیواروں پر نشان۔
اچانک اس کی نظر فرش پر پڑی۔
صحن کے کونے میں ایک پرانی ڈائری گری ہوئی تھی۔ جلد کالی تھی۔ کنارے جلے ہوئے تھے۔
دیا نے کانپتے ہاتھوں سے وہ ڈائری اٹھائی۔
ڈائری کے پہلے صفحے پر بڑے بڑے لفظوں سے لکھا تھا:
"سراج کے نام
دیا نے ڈائری کو سینے سے لگا لیا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
حویلی میں اب کوئی نہیں تھا۔ بس وہ تھی۔ وہ ڈائری تھی۔ اور ایک انجانا نام تھا۔
فجر کا وقت تھا۔ حویلی سے نکل کر دیا سیدھا مین روڈ پر آ گئی۔ سر میں پٹی بندھی ہوئی تھی۔ ہاتھ میں وہی کالی ڈائری تھی جس پر "سراج کے نام" لکھا تھا۔
---
بس میں سردی تھی۔ دیا کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھی تھی، سر پر سفید پٹی، ہاتھ میں کالی ڈائری۔
ساتھ والی سیٹ پر ایک لڑکی بیٹھی تھی۔ دیا نے بہت ہمت کر کے اس کی طرف دیکھا۔
"سنو... مجھے اپنے گھر لے چلو گی؟"
لڑکی نے اسے دیکھا، "کیوں؟ تم کون ہو؟"
دیا کی آواز کانپ رہی تھی، "میرا کوئی نہیں رہا۔ میری حویلی اجڑ گئی ہے۔ جتنا پیسہ کہو گی میں دوں گی۔"
اس نے جلدی سے اپنی جیب سے سارے نوٹ نکالے اور لڑکی کی طرف بڑھا دیے۔
"یہ لو۔ بس مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔"
لڑکی نے نوٹ گنے اور سر ہلایا۔
"ٹھیک ہے۔ میرا گھر اگلے اسٹاپ پر ہے۔"
۔۔۔
اچانک عنایا کی امی ہجوم چیرتی ہوئی دیا کے پاس آئیں۔ سب نے حیرت سے دیکھا۔
عنایا کی امی نے دیا کا کانپتا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور سب کے سامنے کہا:
"یہ دیا ہے۔ آج سے یہ ہمارے ساتھ اسی گھر میں رہے گی۔ میری بیٹی بن کر۔"
کمرے میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔ "یہ کون ہے؟" "کہاں سے آئی؟"
عنایا جو دور کھڑی سب سن رہی تھی، اس کی آنکھوں میں پہلی بار بے چینی آئی۔
---
رات کو عنایا اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔
دروازے پر ہلکی دستک ہوئی۔
"اندر آ جاؤ" عنایا نے کہا۔
دیا اندر آئی۔ آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ ہاتھ میں وہی ڈائری۔ جس پر "سراج کے نام" لکھا تھا۔
عنایا نے اسے اوپر سے نیچے دیکھا۔ پھر اچانک مسکرا کر بولی:
"تم بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہو۔ آؤ میرے پاس بیٹھو۔"
---
دیا نے ڈائری گود میں رکھی ہوئی تھی۔ یہ ڈائری اس کے پاس بہت عرصے سے تھی۔ کبھی کھول کر نہیں دیکھی تھی۔
آج کھولی تو پہلا ہی جملہ دل پر لگا:
"آج پھر ان کو دیکھا۔
نام سراج ہے۔"
آگے پڑھا:
"سراج کا فیورٹ نام فاطمہ ہے۔ کاش میں فاطمہ ہوتی۔"
صفحے پلٹے۔ ہر لائن میں سراج۔
دیا نے ڈائری سینے سے لگا لی۔ آنکھیں بند کر لیں۔
شام کو کھانے پر دادی نے پوچھا: "بیٹا کیا سوچ رہی ہو؟"
دیا نے نظریں جھکا کر کہا: "دادی... آج سے مجھے فاطمہ کہیں گی۔"
دادی چمچ روک کر دیکھنے لگیں: "فاطمہ؟ اچانک؟"
دیا نے بس ہلکا سا سر ہلایا: "ہاں۔ یہ نام اچھا لگتا ہے۔
رات کو سونے سے پہلے دیا نے خود سے کہا: "بس ایک بار سراج سے مل کر تھینک یو کہنا ہے۔
---
دوپہر ڈھلی ہوئی تھی۔
فاطمہ جھولے پر بیٹھی تھی۔
ہاتھ میں وہی ڈائری تھی جس پر "سراج کے نام" لکھا تھا۔
ہوا کا جھونکا آیا۔ ڈائری کا ورق پلٹا۔
"اس کی سب سے بڑی خوبی اس کی ایمانداری ہے۔ وہ بازار سے گزرتا ہے تو دکاندار اس پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ کبھی کسی کا حق نہیں رکھتا۔ اگر اس کی جیب میں ایک روپیہ بھی کسی کا ہو تو رات بھر سو نہیں پاتا۔ اس کا حساب کتاب بالکل سیدھا ہے۔"
فاطمہ نے مسکرا کر اگلی لائن لکھی۔
"وہ چھپ کر مدد کرتا ہے اور بتاتا بھی نہیں۔ اسے دکھاوا نہیں آتا۔ اس کے لفظ سخت ہیں پر نیت صاف ہے۔ وہ وعدہ کرے تو نبھاتا ہے، چاہے جان پر بن آئے۔"
---
اگلے دن صبح سے فاطمہ کچھ بدلی ہوئی تھی۔
خالہ کچن میں تھیں۔ پاس میں ان کی چھوٹی سی ڈبیا پڑی تھی جس میں پیسے تھے۔
فاطمہ بولی۔ "خالہ، یہ ڈبیا آپ ایسے کھلی چھوڑ دیتی ہیں۔"
"مجھے دے دیں۔ میں الماری میں رکھ دیتی ہوں۔ امانت کے طور پر۔"
خالہ نے ڈبیا اس کے ہاتھ میں دے دی۔ "لے، رکھ لے۔"
فاطمہ نے ڈبیا دونوں ہاتھوں سے پکڑی۔
پھر ایمن گلی میں کھیل رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں رنگ برنگے پین تھے۔
فاطمہ بولی۔ "ایمن، یہ پین گم ہو جائیں گے۔ تم مجھے دے دو۔ امانت کے طور پر۔"
ایمن بولی۔ "یہ دس ہیں۔ پورے دس واپس چاہئیں۔"
فاطمہ نے اپنی چھوٹی ڈائری نکالی اور لکھا۔
"ایمن کی امانت - 10 پین"
رات کو خالہ بولی۔ "فاطمہ، میری ڈبیا لا دے۔"
فاطمہ نے ویسی کی ویسی لا دی۔ ایمن کو بھی پورے دس پین واپس کیے۔
اس رات فاطمہ نے ڈائری میں لکھا۔
"آج میں نے خود سب سے امانتیں مانگیں۔ مجھے لگا یہ آسان ہوگا۔ پر یہ بہت مشکل ہے۔ آج سمجھ آیا، سراج کتنے بڑے دل والے ہوں گے۔"
---
رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی۔
صحن میں دادی تسبیح کر رہی تھیں۔
فاطمہ ننگے پاؤں آ کر دادی کے قدموں میں بیٹھ گئی۔ ہاتھ میں وہی سراج والی ڈائری۔
"دادی... اگر آپ کو کسی سے محبت ہو جائے اور آپ اس کے بارے میں کچھ بھی نہ جانتی ہوں تو یہ کتنی بڑی آزمائش ہوتی ہے؟"
دادی نے تسبیح روک لی۔
"تو بیٹی، تو پھر محبت کیسے ہوئی؟"
"بس ہو گئی۔ نام سن کر۔ ذکر سن کر۔ لوگوں سے اس کی تعریف سن کر۔"
دادی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
"یہی تو عشق کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ جب محبوب کا نام دل میں اتر جائے، پر اس کی پہچان نہ ہو۔"
فاطمہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ "تو جو نہ ڈھونڈے دادی؟"
دادی مسکرائیں۔ "وہ محبت نہیں ہوتی۔ وہ صرف زبان کا دعویٰ ہوتا ہے۔ محبت تو قدموں سے ثابت ہوتی ہے۔"
فاطمہ خاموش ہو گئی۔ اس کی ڈائری کے صفحے ہوا سے پھڑپھڑائے۔ اس پر آج کی تاریخ لکھی تھی۔ اور نیچے ایک ہی نام بار بار۔
سراج۔ سراج۔ سراج۔
دادی نے اسے گلے لگا لیا۔
"جاننا چاہیے۔ بغیر جانے محبت ادھوری ہے۔"
"اور اگر جان لے تو؟"
"تو پھر محبت عبادت بن جاتی ہے۔"
---
فاطمہ کمرے میں بیٹھی ہے۔ سامنے وہ پرانی ڈائری کھلی ہے۔
وہ صفحہ پلٹتی ہے اور پڑھتی ہے۔
انہیں میٹھی چیزیں بہت پسند ہیں۔
اگلا صفحہ پلٹتی ہے۔
انہیں آم بہت پسند ہیں۔ بہت زیادہ۔
فاطمہ وہیں رک جاتی ہے۔
وہ جلدی سے اپنی ڈائری نکالتی ہے اور لکھتی ہے۔
"آج پتہ چلا ہے۔ انہیں آم بہت پسند ہیں۔ آج سے پہلے میں صرف ان کا نام جانتی تھی۔ آج میں جان گئی ہوں، انہیں کیا پسند ہے۔"
فاطمہ ڈائری کا اگلا صفحہ پلٹتی ہے۔
فاطمہ کی سانسیں دھیمی ہو جاتی ہیں۔
وہ پڑھنا شروع کرتی ہے۔ وہ نہ بہت لمبے ہیں، نہ بہت چھوٹے۔ درمیانہ قد ہے، ان کے بال گھنے، تھوڑے گھنگریالے۔ کبھی کانوں تک، کبھی کندھوں تک۔ ان کی پیشانی کشادہ ہے۔
ابرو گھنے ہیں، گہرے، جیسے دو کمانیں ملی ہوئی ہوں، بیچ میں ایک رگ ہے جو غصے میں ابھر آتی ہے۔
ان کی آنکھیں... بڑی بڑی، سیاہ، لمبی پلکوں والی۔
ان کا چہرہ... جیسے چودھویں کا چاند۔ رنگ گورا، گلابی مائل، چمکدار۔
ان کی داڑھی گھنی ہے۔ مسکراتے ہیں تو دانت جیسے موتی بکھر جاتے ہیں۔
ان کے کندھے چوڑے ہیں۔ سینہ چوڑا ہے۔ ہتھیلیاں نرم ہیں، ریشم سے بھی زیادہ نرم۔
وہ چلتے ہیں تو جھک کر چلتے ہیں، جیسے اونچائی سے اتر رہے ہوں۔
جب مڑتے ہیں تو پورے جسم سے مڑتے ہیں۔
فاطمہ پڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک کر ڈائری پر گر رہے ہیں۔
وہ اپنی ڈائری نکالتی ہے اور کانپتے ہاتھوں سے لکھتی ہے
"یہ میرے آئیڈیل ہیں۔ کیا عظیم شخصیت ہے ان کی۔ آج میں نے انہیں لفظوں میں دیکھا ہے۔ میں سوچتی تھی، کمال کیا ہوتا ہے؟ آج پتہ چلا ہے۔"
"آج سے پہلے مجھے لگتا تھا، میں محبت کرتی ہوں۔ آج پتہ چلا، میں تو انہیں جانتی ہی نہیں تھی۔"
وہ ڈائری بند کر دیتی ہے اور سینے سے لگا لیتی ہے۔ جس ڈائری پر لکھا ہے "سراج کے نام"
---
دوپہر کا وقت تھا۔ فاطمہ صحن میں بیٹھی دال صاف کر رہی تھی۔
اتنے میں باہر کا دروازہ زور سے بجا۔
"فاطمہ! او فاطمہ! کہاں ہے تو؟"
عنایا ہانپتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں کتابیں تھیں۔
"کیا ہوا عنایا؟ کیوں شور مچا رہی ہے؟"
عنایا نے پانی کا گلاس ایک سانس میں خالی کیا۔
"وہ... وہ سر شناور آئے ہوئے ہیں ہمارے گھر۔"
فاطمہ کا ہاتھ رک گیا۔ "سر شناور؟ ہمارے گھر؟ کیوں؟"
"پتہ نہیں، ابو سے کہہ رہے تھے کہ فاطمہ کی شادی ابھی کہیں مت کرنا۔"
فاطمہ کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔
اسی لمحے دادی صحن میں آ گئیں۔
بیٹھک میں شناور بیٹھا تھا۔ سفید شلوار قمیض، ہاتھ میں فائل۔
"اسلام علیکم دادی۔"
"وعلیکم السلام بیٹا، بیٹھو۔"
"جی دادی۔ میں اسی لیے آیا تھا۔ میں نے سنا ہے آپ فاطمہ کے رشتے کی بات چلا رہے ہیں۔"
دادی نے حیرانی سے دیکھا۔ "ہاں، پر..."
"دادی، میری آپ سے درخواست ہے، فاطمہ کی شادی ابھی کہیں مت کریں۔ یہ لڑکی بہت قابل ہے۔ اسے پڑھنے دیں۔"
فاطمہ دروازے کے پیچھے کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ ٹھنڈے ہو رہے تھے۔
دادی آہستہ سے مسکرائیں۔ "ہم ابھی نہیں کر رہے بیٹا، فاطمہ ابھی بچی ہے۔"
---
سر شناور کے جانے کے بعد فاطمہ اور عنایا دونوں کمرے میں آ کر دروازہ بند کر کے بیٹھ گئی تھیں۔
عنایا نے اسے کہنی ماری۔ "ہائے ہائے... کیا اداکاری تھی سر کی۔"
فاطمہ نے چونک کر دیکھا۔ "کیا مطلب؟"
"ارے وہی، دادی میری آپ سے درخواست ہے... فاطمہ کی شادی ابھی کہیں مت کریں..."
دونوں ہنسنے لگیں۔
"پر عنایا... انہوں نے ایسا کہا کیوں؟"
عنایا ایک دم اس کے قریب سرک آئی۔ "فاطمہ... I think he is interested in you."
فاطمہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ "پاگل ہو گئی ہے کیا عنایا؟ وہ سر ہیں میرے!"
"تو استاد کو دل نہیں ہوتا کیا؟"
فاطمہ نے تکیہ اٹھا کر عنایا پر مارا۔ "چپ کر جا بے شرم!"
---
صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔
فاطمہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے آج ہلکے پستہ رنگ کا سادہ سوٹ پہنا تھا۔ ناک میں ایک بہت چھوٹی سی چمکتی ہوئی نوز رنگ۔
"دادی میں اکیڈمی جا رہی ہوں۔"
۔۔۔
کلاس میں رش تھا۔ سر شناور کلاس لے رہے تھے۔
"فاطمہ؟"
"جی سر۔"
چھٹی کے بعد جب سب بچے جا چکے تھے، شناور آہستہ سے بولے۔
"فاطمہ، گیٹ پر رش ہے۔ دو منٹ بعد جانا۔"
فاطمہ نے سر ہلا دیا۔ "جی سر۔"
---
رات کا وقت تھا۔ صحن میں سب بیٹھے تھے۔
بات کہیں سے کہیں نکل گئی۔ عنایا نے کسی فلم کا ذکر کیا جس میں ایک طوائف کا کردار تھا۔
فاطمہ جو اب تک چپ بیٹھی تھی، اس نے بات سنی تو اس کی آنکھوں میں غصہ آیا۔
"اگر کوٹھے والی عورتیں غلط ہیں تو ان مردوں کا کیا جو کوٹھے پر جاتے ہیں؟"
صحن میں بالکل خاموشی ہو گئی۔
"فاطمہ!" دادی نے اسے ٹوکا۔
"دادی سچ کہہ رہی ہوں میں،" فاطمہ نے کہا۔ اس کی ناک کی چھوٹی سی نوز رنگ غصے سے ہل رہی تھی۔ "عورت کو تو سب غلط کہہ دیتے ہیں۔ پر کوئی اس مرد کو غلط کیوں نہیں کہتا؟ عورت مجبوری میں وہاں بیٹھی ہے، مرد تو شوق سے جاتا ہے۔"
دادی نے بات ختم کروا دی۔ "بس کرو دونوں! بات ختم کرو۔"
---
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔
فاطمہ اپنے کمرے میں بیٹھی کتاب کھولے بیٹھی تھی۔
اس کا فون وائبریٹ ہوا۔
کیسی ہیں آپ؟
فاطمہ نے نمبر کو غور سے دیکھا۔ یہ سر شناور کا نمبر تھا۔
فاطمہ کا دل زور سے دھڑکا۔ اس نے کانپتے ہوئے ٹائپ کیا۔ جی سر، ٹھیک ہوں۔
ایک منٹ بعد ہی ریپلائی آ گیا۔
آج کلاس میں خاموش تھیں۔ سب خیریت تو ہے؟
جی سر بس تھوڑی تھکن ہو رہی تھی۔
ٹھیک ہے، آرام کریں۔ کل ٹیسٹ ہے۔
---
کافی دن ہو گئے تھے۔
سر شناور اب تقریباً روز ہی فاطمہ کو میسج کر دیتے تھے۔
کلاس کیوں نہیں آئیں آج؟
ٹیسٹ کی تیاری ہو گئی؟
فاطمہ کو اب ان میسجز کی عادت سی ہو گئی تھی۔
ایک دوپہر عنایا فاطمہ کے کمرے میں آئی۔ فاطمہ فون پر مسکرا رہی تھی۔
عنایا نے اس کے ہاتھ سے فون چھین لیا۔
"کس سے باتیں ہو رہی ہیں؟"
"ارے واہ، سر شناور؟" عنایا نے سکرین پڑھ لی۔ آخری میسج تھا: آج اکیڈمی کیوں نہیں آئیں؟ میں نے انتظار کیا تھا۔
عنایا کی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔ "فاطمہ! یہ کیا ہے؟"
فاطمہ کا چہرہ لال ہو گیا۔ "ایسا کچھ نہیں ہے۔ وہ ہر سٹوڈنٹ کا حال پوچھتے ہیں۔"
عنایا اس کے پاس بیٹھ گئی۔ "جھوٹ مت بول۔ مجھے تو آج تک ایک میسج نہیں کیا انہوں نے۔"
فاطمہ نے اپنی چھوٹی سی نوز رنگ کو ہاتھ سے گھمایا۔
"پتا نہیں عنایا... مجھے خود سمجھ نہیں آ رہا۔"
عنایا نے کہا۔ "دیکھ فاطمہ، وہ تیرے سر ہیں۔ تجھے صاف کہنا چاہیے کہ سر پلیز مجھے پرسنل میسج نہ کیا کریں۔"
---
چھٹی کے بعد عنایا نے ہمت کر کے سر شناور کے پاس جانے کا سوچا۔ فاطمہ باہر گیٹ پر اس کا انتظار کر رہی تھی۔
عنایا ٹیچرز روم میں گئی۔
"جی عنایا؟" شناور نے کہا۔
عنایا نے گہری سانس لی۔ "سر، وہ... فاطمہ نے کہا تھا کہ آپ اسے پرسنل میسج نہ کیا کریں۔"
یہ سنتے ہی شناور کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
"اچھا؟ تو اس نے تمہیں وکیل بنایا ہے؟"
"سنو عنایا، اسے جا کر کہہ دو۔ اگر فاطمہ نے مجھ سے شادی نہ کی تو وہ جہنم میں جائے گی۔"
عنایا کا منہ کھلا رہ گیا۔ "سر... یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟"
"جو سچ ہے وہی کہہ رہا ہوں۔"
عنایا وہاں سے فوراً نکل گئی۔
باہر گیٹ پر فاطمہ کھڑی تھی۔
عنایا بھاگتی ہوئی آئی۔ "فاطمہ... تجھے پتا ہے سر نے کیا کہا؟ اس نے کہا ہے اگر فاطمہ نے مجھ سے شادی نہ کی تو وہ جہنم میں جائے گی!"
فاطمہ نے پہلے تو یقین نہیں کیا۔ پھر اسے بھی ہنسی آ گئی۔
"کیا؟ جہنم میں؟ یہ کیا بات ہوئی؟"
"ایسے کہہ رہا تھا جیسے جہنم کی چابی اس کی جیب میں ہے۔"
"آخر میں نے وعدہ ہی کب کیا تھا کہ میں شادی کروں گی؟" فاطمہ نے نخرے سے کہا۔
دونوں سڑک کے بیچ کھڑی ہنستی رہیں۔
---
فاطمہ اپنا رجسٹر لے کر نمبر لگوانے گئی۔ سر شناور کرسی پر بیٹھے تھے۔ ان کے اپنے بال کافی عرصے سے کنگھی نہ ہونے کی وجہ سے بکھرے ہوئے تھے۔
"فاطمہ، ایک بات کہوں؟"
"جی سر؟"
"بالوں کو شیمپو کیا کرو۔ اپنا خیال رکھا کرو تھوڑا۔"
فاطمہ نے یہ سنا تو اسے ایک دم سے ہنسی آنے لگی۔
"جی... جی سر، کر لیا کروں گی۔"
فاطمہ کلاس سے باہر نکلتے ہی سیدھا واش روم کی طرف بھاگی اور وہاں کھڑے ہو کر ہنس پڑی۔
گھر آ کر وہ سیدھا عنایا کے پاس گئی۔
"عنایا، آج تو حد ہو گئی۔ کہتے، 'بالوں کو شیمپو کیا کرو'"
عنایا ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئی۔
"سائنسدان صاحب، کل کہیں گے فیس واش کیا کرو، بال سیدھے ہو جائیں گے۔"
دونوں دیر تک ہنستی رہیں۔
....
(ماضی)
ایف الیون کے اس اکیلے فلیٹ میں صرف ایک ہی آواز تھی - شاور کی۔
بہزاد علوی باہر نکلا۔ سترہ سال کا، لیکن سترہ سال کا لگتا نہیں تھا۔
گیلے بال ماتھے پر گر رہے تھے۔ سفید ٹی شرٹ جو اس کے چوڑے کندھوں پر فٹ آ رہی تھی، نیچے گرے ٹراؤزر۔ اس کی آنکھیں گہری ، اور ناک پر ایک چھوٹا سا کٹ کا نشان تھا بچپن کا۔
وہ اکیلا رہتا تھا اس فلیٹ میں۔ پورا فلیٹ بکھرا ہوا، لیکن اس کا کمرہ صاف تھا۔ دیوار پر صرف ایک باسکٹ بال کا پوسٹر تھا ۔
اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بال سیٹ کیے۔ ایک ہاتھ سے جیل لگایا، دوسرے ہاتھ سے بالوں کو پیچھے کیا۔ پھر خود کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا - وہ جانتا تھا وہ ہینڈسم ہے۔
ٹیبل پر اس کا کالج کا بیگ پڑا تھا، اور ساتھ ایک بلیک ہڈی۔ اس نے ہڈی پہنی، چیئر پر ٹانگ رکھ کر جوتے کا تسمہ باندھا - سفید سنیکرز، مہنگے والے۔
کچن میں گیا، فریج کھولا۔ اندر صرف دودھ اور انڈے تھے۔ اس نے دودھ کا گلاس بھر کر ایک سانس میں پی لیا۔
پھر اس نے اپنی بائیک کی چابی اٹھائی - 125، کالی۔ دیوار پر لٹکا ہیلمٹ اتارا۔
فلیٹ کو لاک کیا، سیڑھیاں دو دو کر کے اترا۔
باہر اسلام آباد کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ اس نے بائیک اسٹارٹ کی، ہلکی سی ریس دی۔
ہیلمٹ پہنے بغیر، بال ہوا میں اڑتے ہوئے، وہ کالج کی طرف نکل گیا۔
۔۔۔
سر بورڈ پر فارمولے لکھے جا رہے تھے، بچے جلدی جلدی نوٹ کر رہے تھے۔ لیکن آخری بینچ پر...
بہزاد علوی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔
اس نے اپنی کرسی کو تھوڑا پیچھے کیا ہوا تھا، ایک ٹانگ دوسری پر رکھی تھی۔ ہڈی کی جیب میں ہاتھ۔ بال ابھی بھی تھوڑے بکھرے ہوئے۔
اس کی آنکھیں کلاس میں نہیں تھیں۔ باہر گراؤنڈ میں جونیئر بچے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ اس کی نظریں وہیں تھیں۔
"بہزاد!"
سر کی آواز آئی۔ پوری کلاس نے مڑ کر اسے دیکھا۔
"جی سر؟"
وہ آرام سے بولا، جیسے ابھی نیند سے اٹھا ہو۔
"ادھر دھیان دو، بورڈ پر دیکھو۔ یہ نیومیریکل سمجھ آ رہا ہے؟"
بہزاد نے بورڈ پر ایک نظر ڈالی، صرف ایک نظر۔
"جی سر، آ رہا ہے۔ یہ تو لاسٹ چیپٹر کا بیسک 42.5 فارمولا ہے۔ آنسر ہے
پوری کلاس خاموش۔ سر نے چونک کر بورڈ دیکھا، پھر اپنی کاپی دیکھی۔
جواب واقعی 42.5 تھا۔
سر نے عینک ٹھیک کی۔
"تو پھر کھڑکی سے باہر کیا دیکھ رہے ہو؟"
بہزاد نے پھر باہر دیکھا، ہلکا سا مسکرایا۔
"سر، یہ تو مجھے پہلے سے آتا ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ آج بارش ہوگی یا نہیں۔"
لڑکیوں والی سائیڈ سے ہلکی ہنسی کی آواز آئی۔
سر کچھ کہہ نہ سکے، صرف بولے "ہوشیار بہت بنتے ہو، علوی صاحب۔"
بہزاد نے پھر سے کھڑکی کی طرف منہ کر لیا۔ اسے سب آتا تھا، اسی لیے اس کا دھیان کلاس میں نہیں لگتا تھا۔