طاہرہ نے کہا ٹھیک ہے وہیں پر طاہرہ کے فون پر کال ائی اس نے دیکھا اس کی امی کی کال تھی اس نے کہا میری مما کی کال ا رہی ہے میں ان سے بات کر کر اگلا رہی ہوں تو عائشہ نے کہا ٹھیک ہے جاؤ وہ باہر چلی گئی اور جا کر اپنی امی سے باتیں کرنے لگی۔ عائشہ اور فاطمہ یہاں بہت خوش تھے ان کے اتنے اچھے نمبر ا گئے ہیں تھوڑی دیر بعد وہ باہر جا ئی اس کا منہ اترا ہوا تھا جیسے اس کی موم نے اس کو ڈانٹا ہو عائشہ نے پوچھا تمہیں کیا ہوا ہے تو اس نے کہا یار میری مما کے کال تھی تو فاطمہ نے کہا کیا ہوا کیا انٹی نے کچھ کہا ہے تو طاہرہ نے کہا یار وہ مجھے ڈانٹ رہی تھی فاطمہ نے کہا کیوں ڈانٹ رہے تھے طاہرہ نے کہا یار انہیں وہ ساری بات پتہ چل گئی ہے جو میں نے زہرہ کے ساتھ کی ہے اس لیے وہ کہہ رہی تھی کہ تم ابھی بھی باز نہیں ائے انہوں نے کہا ہے کہ وہ مجھ سے بات نہیں کریں گے کیونکہ میں نے بتا توڑ دیا عائشہ نے کہا ہم تمہاری مما سے بات کریں اس نے کہا نہیں میں نے اپنے کزن کو کال کی تھی اس نے اٹھائی نہیں جب وہ دیکھا گا کہ میری کال ائی ہے وہ مجھے کال کر دے گا تو میں اس سے بات کروں گی پھر وہ موم سے بات کرے گا۔ عائشہ نے کہا یار بات تو یہ سوچنے والی ہے کہ تمہاری مما یہاں ہے بھی نہیں پھر انہیں یہ بات کس نے بتایا طاہرہ نے کہا مجھے پتہ ہے کس نے بتائی ہے فاطمہ نے کہا بتاؤ کس نے بتایا ہے طاہرہ نے کہا چھوڑو اسے جانے دو اسے خوش ہونے دو۔ عائشہ نے کہا جب تم بتانا بھی نہیں چاہتے تو ہم نہیں پوچھیں گے اب تم اپنا موڈ اچھا کرو طاہرہ نے کہا اگر میرے میں کزن سے بات ہو جاتی تو میرا موڈ بھی اچھا ہو جاتا عائشہ نے کہا پھر تم اپنے کزن کو دوبارہ کال کر لو کیا پتہ وہ اس بار اٹھا لے تو فاطمہ نے کہا کہ عائشہ دل کو ٹھیک کہہ رہی ہے ان دونوں کے کہنے پر اس نے دوبارہ کر دی اس کے کزن انہیں اٹھائی وہ اپنے کزن سے باہر جا کر باتیں کرنے لگے تھوڑی دیر بعد جب وہ اندر ائی وہ خوش ہو کر ائی تو عائشہ نے کہا یار تو ایسے خوش ہو رہی ہے جیسے تیری محبت سے تیری بات ہو گئی ہوں تو طاہرہ نے کہا صرف وہ میرا کزن ہے ان دونوں بہت اچھے دوست ہیں اس نے کہا ہے کہ وہ مما سے بات کرے گا اور مما کبھی اس کی بات نہیں ڈالتی عائشہ نے کہا کہ سچ میں تمہیں تمہارا کزن ہے پسند نہیں ہے تو اس نے کہا کیا تم کورین ڈرامے دیکھتی ہو عائشہ نے کہا ہاں میں دیکھتی ہوں تو طاہر ہ نے کہا یہ پھر تمہارا قصور نہیں ہے تم بہت زیادہ ڈرامے دل کی ہو اس لیے تمہیں لگتا ہے کہ کوریا میں بھی ایسا ہوتا ہے یار وہاں اتنا ٹائم نہیں ہوتا کہ ہم محبت کریں ہر کوئی مصروف رہتا ہے ہر کوئی اپنے فیچر کو اچھا بنانے کی کوشش کرتا ہے اس دوران ڈیٹنگ کا ٹائم نہیں ہوتا اور وہاں پر خوبصورت لوگ کم ہوتے ہیں یعنی اگر ٹی وی پر دکھائے جائیں تو سب خوبصورت لوگ ہوتے ہیں لیکن اصل میں ایسا نہیں ہے اگر وہاں پر کوئی ڈیٹنگ کرے تین سال سے بھی کم ریٹنگ ہوتی ہے یا پھر بریک اپ ہو جاتا ہے یا پھر شادی ہو جاتی ہے عائشہ نے کہا ٹھیک ہے مجھے سمجھ ا گیا تو ان کا کہنا چاہتی ہوں۔ تھوڑی دیر بعد ہماری بریک کا ٹائم ہو گیا مجھے تینوں کلین میں ناشتہ کرنے کے لیے چلی گئی وہاں پر حسین نے طاہرہ کو کہا تم تو ہماری کلاس کی ٹوپڑ ہو طاہرہ نے کہا مجھے اپ سے بات نہیں کرنی اپ یہاں سے چلا جائے تو حسین نے کہا ادھے سے زیادہ کالج کی لڑکیاں مجھ پر مرتی ہیں تم شکر مانو کہ میں تم سے بات کر رہا ہوں تو طاہر ہ نے کہا کیا میں نے اپ کو بلایا تھا بات کرنے کے لیے حسین نے کہا کہ تم اتنی اچھی بھی نہیں ہو جتنی لگتی ہو طاہر نے کہا کیا میں نے تم سے اپنے بارے میں کوئی رائے مانگی فاطمہ نے کہا یار چھوڑو کوئی بات نہیں حسین نے کہا واقعی ہی جیسے سنا تھا کہ تم کوریا سے ائی ہو تو بدتمیز ہو گئی تم ویسے ہی بدتمیز ہو طاہرہ نے کہا کیا میں نے تمہیں کہا ہے کہ مجھے تم سے کھاؤ تم اپنی تمیز اپنے پاس رکھو تو حسین نے کہا لگتا ہے تمہاری ماں بھی تمہاری طرح کے ہوگی جیسے تمہیں تمیز نہیں بس تم نے بھی نہیں ہو گی یہ سن کر طاہرہ نہیں حسین کو منہ پر تھپڑ انے دیا اور کہا کہ مجھے جو کہنا ہے کہہ دو میری مما پر جانے کی ضرورت نہیں ہے اگر تم نے ایسے پھر کیا تو تمہارا میں وہ حشر کروں گی جو کسی نے نہ کیا ہو یہ دیکھ کر میں ایا اور کہنے لگا اب تم میرے نشانے پر ہو تو طاہرہ نے کہا تمہیں بھی میں دیکھ لوں گی میں تم سے نہیں ڈرتی اور جاؤ اپنے دوست کے پاس جاؤ مجھے ناشتہ کرنا ہے میں نے کہا تم شکر مناؤ کہ میں لڑکیوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتا اگر میں لڑکے اوپر ہاتھ اٹھا تھا تو جس ہاتھ سے تم نے میرے دوست کو مارا ہے وہی ہاتھ تمہارا میں توڑ دیتا ہوں تو اس نے کہا بڑا اج میرا ہاتھ ٹوٹنے والے تم اتنے قابل نہیں ہو کہ تم میرا ہاتھ توڑ پاؤ میں غصے سے وہاں سے چلا گیا اور میرے دوست میرے پیچھے ا گئے۔ میرے دوستوں نے کہا اب کیا کرنا ہے میں نے کہا یہ تم مجھ سے پوچھ رہے ہو اپ اس لڑکی کو اتنا تنگ کرنا ہے کہ وہ یہ کالج چھوڑ کر چلے جائیں میرے بہن وہیں ائی کہنے لگے بھائی اپ مجھ سے چھوڑ دیں اپ مجھے کچھ مت کرنا میں نے بہن کو کہا اگر وہ مجھے تھپڑ مارتی تو میں اسے چھوڑ دیتا مگر اس نے میرے سامنے حسین کو تھپڑ مار میں یہ نیچے چھوڑ سکتا سن کر میری بہن نے کہا پلیز انکھوں سے اخری بار چھوڑ دیں میں نے کہا فاطمہ اگر میں جا کر تمہارے دوست کو تھپڑ مار دوں تمہیں کیسا لگے گا تو اس نے کہا بھائی واقعی مجھے برا لگے گا تو میں نے کہا تم یہ بتاؤ کہ تمہاری دوستی ایک مہینے کیا اور میری بچپن کی ہے تو مجھے کتنا برا لگ رہا ہوگا یہ سن کر وہ خاموش ہو گئے تو میں نے کہا اب تمہارا ہمارے جھگڑے سے کوئی واسطہ نہیں ہے تو اس نے کہا بھائی میں نے کہا اگر اب تم اس جھگڑے میں ائے تو بہت برا ہوگا میں نے تمہارے کہنے پر اسے چھوڑ دیا تھا دو مرتبہ چھوڑ دیا تھا لیکن اس پر اس نے اپنی حد پار کر دیا فاطمہ مجھے کہتی رہی اور اس سے کچھ نہ کھائیں میں نے اس کی ایک بار بھی نہ سنی