ان کے جاتے ہی سب بچے اپنا نمبر دیکھنے لگے عائشہ نے کہا طاہرہ اور فاطمہ میں تم دونوں کے نمبر دیکھاتی ہوں اور ساتھ اپنے میں وہ نمبر دیکھنے گئی ان لوگوں کے نمبر نہیں لگے ہوئے تھے جب وہ واپس ائی فاطمہ نے کہا بتاؤ میرے کتنے نمبر ائے ہیں تو عائشہ نے کہا یار ہمارے تو نمبر بھی نہیں لگے ہوئے فاطمہ نے کہا ہے ایسا نہیں ہو سکتا ہے اس نے جا کر دیکھا واقعی نمبر نہیں لگے ہوئے تھے اس نے ا کر بتایا یار ہمارے تو نمبر نہیں لگے ہوئے اب ہم کیا کریں گے یہ سن کر سب بچے ان پر ہنسنے لگے اور کہنے لگے یہ ہمارے سامنے پڑھنے کا ڈرامہ بہت اچھا کرتی تھی لیکن افسوس یہ پاس بھی نہیں ہو سکی یہ سن کر طاہر ہ نے کہا کیا تم لوگوں کو یقین ہے کہ ہم پاس نہیں ہوگی۔ تو زہرہ نے طاہر ہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کوئی نہیں ایسا کبھی کبھی ہوتا ہے بس دوبارہ کبھی بھی ہمارے سامنے پڑھائی کرناٹک مت کرنا یہ سن کر عائشہ نے کہا تمہیں کیسے پتا کہ ہم پڑھائی کرناٹک کر رہے ہیں یا پڑھ رہے ہیں طاہرہ نے زہرہ کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹایا اور کہنے لگی میں جا کر سر سے بات کرتی ہوں کہ ہمارے نمبر کیوں نہیں لگائے گئے یہ سن کر زہرا نے کہا نمبر جاننے کی بھی ضرورت نہیں ہے ویسے تم لوگوں کے اتنے خاص نمبر نہیں ہوں گے تو طاہر نے کہا یہ تو پروفیسر صاحب بتائیں گے کہ خاص ہیں یا نہیں جیسے خود پر یقین ہو کہ اس کے نمبر بہت اچھے ائیں گے اور اس کے دوستوں کو بھی زہرا نے کہا اندازہ تمہارے کتنے نمبر ائیں گے طاہر نے کہا ہے تمہارے کتنے نمبر ائے ہیں تو زہرا نے کہا میرے نمبر 550 طاہرہ نے کہا ٹوٹل نمبر کتنے ہیں زہرا نے کہا تم نے پیپر دیا ہے تمہیں نمبر نہیں پتا پھر بھی میں تمہیں بتا دیتی ہوں کہ ٹوٹل 700 نمبروں کا پیپر ہے ہر پیپر 100 نمبر کا تھا تو طاہر ہ نے کہا کہ میرے 00 7میں سے 700 ائیں گے اور یہ بھی میں کہتی ہوں کہ میرے دوستوں کے نمبر تم سے اوپر ائیں گے تو زہرا نے کہا لگتا ہے تم خواب دیکھ رہی ہو اس نے کہا میں ہوش و بعد میں ہوں زہرا نے کہا اگر تمہارے نمبر ایسے ائیں گے جیسے تم بتا رہی ہو تو میں اپنے منہ پر انک لگا کر پورے کالج کا چکر لگاؤں گی اگر نہیں ائے تو تم ایسا کرو گے فاطمہ نے کہا تم اپنی حد بھول رہی ہو لیکن طاہر ہ نے کہا ٹھیک ہے مجھے منظور ہے ان کو لگانے کے لیے تیار ہو جاؤ ابھی یہی بات ہو رہی تھی کہ پرنسپل صاحب اور پروفیسر صاحب ائی پرنسپل صاحب نے کہا مجھے تم لوگوں کی کلاس سے پہلے کوئی امید نہیں تھی مگر اب بہت امید ہونے لگی ہے تم لوگ پڑھنے ایک کا نام فاطمہ ہے دوسرے کا نام طاہرہ ہے اور تیسری کا نام عائشہ ہے طاہرہ نے 700 میں سے 700 نمبر لیے ہیں جب کہ مجھے معلوم ہے کہ اسے ائے ہوئے ایک مہینہ ہوا ہے اور فاطمہ نے 700 میں سے 600 نمبر لیے ہیں اور عائشہ نے سات س700 میں سے 660 نمبر لیے ہیں واقعی ہی ان بچوں نے بہت زیادہ محنت کی ہے یہ کہہ کر پرنسپل چلے گئے۔ پروفیسر صاحب نے فاطمہ کو کہا جیسے اس بار تم نے محنت کی ہے اگے بھی ایسے محنت کرنا تو فاطمہ نے کہا سر یہ محنت میری نہیں ہے یہ میں نے ہم تینوں کی ہے ہم تینوں نے ایک ساتھ تیاری کی تھی فاطمہ نے کہا سر طاہرہ نے میری بہت پڑھائی میں مدد کی ہے تو پروفیسر صاحب نے کہا طاہرہ بہت اچھے اپ نے بہت اچھے نمبر لیے ہیں طاہرہ نے کہا سر شکریہ سر نے کہا طاہرہ میں چاہتا ہوں کہ تم کلاس کی مونیٹر بن جاؤ طاہرہ نے کہا سر میں مونیٹر نہیں بننا چاہتی میں صرف پڑھائی کرنا چاہتی ہوں ایم سوری میں اپ کی بات نہیں مان سکتی سر نے کہا تمہاری مرضی پروفیسر صاحب وہاں سے چلے گئے پروفیسر کے جاتے ہیں طاہر ہخان سیدھا زہرہ کے پاس گئی اور کہنے لگے اپنی شرط پوری کرو زہرا نے کہا میں تو مذاق کر رہی تھی تو طاہرہ نے کہا اگر میری دوست ہیں اور میرے نمبر ایسے اتے ہیں پھر بھی تم کیا یہ کہتی کہ میں مذاق کر رہی ہوں تو وہ خاموش ہو گئی تو طاہرہ نے کہا اپنی شرط پوری کرو ہمارے ریاضی کے پروفیسر گلاس میں ائے اور کرنے لگے کون سی شرط طاہر ہ نے کہا سر جب اپ لوگوں نے ہمارے نمبر نہیں بتائے تھے تو اس نے کہا تھا اگر ہمارے نمبر اس سے کم ائیں گے تو میں منہ پر انک لگا کر پورے کالج میں چکر لگاؤں گی اگر اس سے اوپر نمبر ا گئے تو یہ پورے کا چکر لگائے گی تو پروفیسر صاحب نے کہا اگر اس نے کہا ہے تو یہ کرے گی پروفیسر نے زہرہ کو کہا میں پنک لگاؤ اور اپنی شرط کو بھی کرو زہرا نے کہاپروفیسر صاحب میں نے تو مذاق کیا تھا تو فاطمہ نے کہا یہ کوئی مذاق میں کرنے کی بات ہے تم ہمارا مذاق بنا رہی تھی تو پروفیسر نے کہا میں تمہیں پانچ منٹ دیتا ہوں اپنے منہ پرینک لگا کر پورے کالج کا چکر لگاؤ تو مجبوری میں اپنے منہ پر انک لگائی وہ پورے کالج کا چکر لگایا سب بچوں اس پر ہنس رہے تھے۔ پروفیسر صاحب نے کہا کیا تو میں ڈر نہیں لگتا کہ تم اپنی کلاس مونیٹر کے ساتھ ایسا کر رہی ہو اور وہ اگے تم سے بدلے لے گی تو طاہرہ نے کہا مجھے کسی سے ڈر نہیں لگتا اگر میں حق پر ہوں تو میں ہمیشہ صحیح ہوں یہ سن کر پروفیسر صاحب نے کہا ٹھیک ہے اور وہ واپس چلے گئے۔ میری بہن اپنے نمبروں کو دیکھ کر بہت خوش تھے وہ جا طاہرہ کو کہنے لگے تمہارا بہت بہت شکریہ تم نے میری پڑھائی میں مدد کی ہے تب جا کر میرے اتنے اچھے نمبر ائے ہیں اپنے اپنے بھائی کو اپنے نمبر دکھانے کے لیے طاہرہ نے کہا اس نے میری محنت نہیں ہے میں نے تو صرف تمہیں سمجھایا تھا تم نے باقی سب کچھ تیار کیا ہے عائشہ نے کہا یار تم ماننا تمہارا ہماری کامیابی میں پکا ہاتھ ہے تو طاہر ہ نے کہا تم لوگوں نے خود کہا تھا کہ دوستی میں شکر نہیں کرتے اور نہ ہی سوڑی کہتے ہیں پھر تم بار بار مجھے شکریہ اور سوری کیوں کہہ رہی ہو تو عائشہ نے کہا تم ناراض نہ ہو ہم پھر سے ایسا نہیں کریں گے ہم خیال رکھیں گے