قسط 13

1225 Words
ہم راستے میں باتیں کر رہے تھے کہ کون سی مووی دیکھیں تو احمد نے کہا ایک فنی مووی ائی ہوئی ہے کیوں نہ وہیں دیکھنے چلے تو میں نے کہا ٹھیک ہے ویسے بھی فنی مووی دیکھے ہوئے کافی زیادہ ٹائم ہو گیا۔ تو جب ہم مووی حال پہنچے میں نے کہا تم لوگ یہیں رکو میں کوانٹر سے ٹکٹ لے اتا ہوں تو میرے دوست نے کہا کچھ کھانے کے لیے بھی لے لینا میں نے کہا ٹھیک ہے جب میں وہاں پہنچا تو وہاں طاہرہ کھڑی تھی وہ ٹکٹ لے کر سائیڈ پر ہو گئی تو میں ٹکٹ لینے کے لیے اگر بڑا اور چار ٹکٹ لی اب میں ٹکٹ لے رہا تھا کہ وہیں پر فاطمہ اور عائشہ ا گئی اور طاہر سے کہنے لگے ہم نے سوچا کہ تم چیزیں کیسے کیسے اٹھاؤں گی اسی لیے ہم ساتھ اگئے۔ ابھی میں وہیں کھڑا تھا کہ پیچھے سے میرے دوست اگئے میں نے ان سے پوچھا تم یہاں کیا کرنے ائے ہو تو انہوں نے کہا ہم نے سوچا تم چیزیں کیسے اٹھاؤ گے احمد کی نظر فاطمہ اور اس کے دوستوں پر پڑی وہ کہنے لگا ہماری قسمت ہے جو ہمیں بار بار ملا رہی ہے میں نے کہا کیسی قسمت اس نے کہا سامنے دیکھو تمہاری بہن نے کہا تھا کہ ہم جہاں منہ بھی دیکھنے جائیں وہاں تم نا انا اور ہم بھی وہیں ا گئے ہمیں تو بھی نہیں تھا کہ وہ بھی یہی منہ دیکھ رہے ہیں میں نے کہا چلو کوئی بات نہیں ایسا کبھی کبھی ہو جاتا ہے۔ ہم پر عائشہ کی نظر پڑی عائشہ کہنے لگی اج کا دن تو خراب ہے تو طاہرہ نے کہا کیا ہوا کہنے لگے ہماری کلاس کے نکمے یعنی گنڈے یہاں تو طاہر ہ نے کہا یہ جگہ ان کے باپ بھی نہیں ہے ہم جہاں چاہیں جا سکتے ہیں فاطمہ نے کہا چلو مووی دیکھنے چلتے ہیں میرے دوستوں نے سب کچھ سن لیا وہ کہنے لگے اور تو ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے میری بہن کا میسج ایا بھائی انہیں چھوڑ دیں پھر یہ اپ کچھ نہیں کہیں گے تو میں نے کہا یہ صرف اخری بار ہے تو میری بہن نے کہا ٹھیک ہے بھائی میں انہیں کہہ دوں کہ اپ کچھ نہ کہیں تو میرے دوست کہنے لگے یار موڈ خراب ہو گیا ہے کیوں نہ کہیں اور چلیں میں نے کہا ویسے بھی یہ فنی فلم ہے دیکھ کر تم لوگوں کا منہ اچھا ہو جائے گا فلم دیکھنا چلتے ہیں انہیں کہا ٹھیک ہے۔ ہم فلم دیکھنے چلے گئے واقع ہی فلم بہت فنی تھی فلم دیکھ کر بہت مزہ ایا ہم فلم دیکھنے کے بعد باہر اگئے باہر انے کے بعد مدثر کے دادا کی کال ائی انہوں نے کہا گھر اؤ مدثر نے کہا اج دادا میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہوں تو اس کے دادا نے کہا کیا میں نے تمہیں تمہارے دوست نہیں دیکھے ہوئے انہیں بے گھر لیتے اؤ تو مدثر نے کہا دادا میں ان سے پوچھتا ہوں اگر وہ انا چاہتے ہیں تو میں ان کو لے اؤں گا تو اس کے دادا نے کہا تم میری بات کرواؤ مدثر نے اوپن اواز بھی اور دادا نے ہم سب کو گھر انے کو کہا ہم سب نے کہا ٹھیک ہے تو ہم وہاں سے سیدھا اس کے دادا کے گھر چلے گئے۔ اس کے دادا کے گھر سے میں تقریبا 12 بجے ایا تھا میرے بہن سو چکی تھی میں بھی جا کر سو گیا صبح جب میں اٹھا میری بہن کالج جانے کی تیر کر چکی تھی وہ باہر ناشتہ کر رہی تھی اور مجھے کہنے لگے بھائی اپ کا ناشتہ پڑا ہے کالج میں ناشتہ کرتے انا میں نے کہا اگر تمہاری میری اتنی فکر ہوتی تو تم ناشتہ میرے ساتھ کرتی نہ کہ اکیلے تو اس نے کہا بھائی اپ سو رہے تھے تو میں نے اٹھانا صحیح نہیں سمجھا میں نے کہا ٹھیک ہے میں کر لوں گا ویسے تم اتنی خوش کرو تمہیں بہن نے کہا بھائی اپ کو یاد نہیں ہے کہ اج رزلٹ ائے گا تو میں نے کہ تو ایسے ہو رہی ہو جیسے تمہارے بہت اچھا نمبر ائیں گے مجھے کہنے لگے بھائی میرے بہت اچھے نمبر ائیں گے میں نے کہا پوری کلاس میں سب سے کم نمبر تمہارے اتے ہیں تمہارے کیسے اچھے نمبر انے لگے کہنے لگی بھائی اپنی بات کہی ہوئی یاد رکھنا میں نے کہا ٹھیک ہے اب تو کالج کے لے جاؤ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ تو وہ کالج کے لیے چلی گئی میں نے بھی ناشتہ کیا اور کالج کے لیے چلا گیا جب میں کالج پہنچا تو میرے دوست سامنے کھڑے تھے ہم چاہ رہے ہیں ایک ساتھ کلاس میں گئے میرے ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی میں جب کلاس میں پہنچا تو ہماری کلاس کی میٹر کھڑی ہوئی اور کہنے لگے احسن یہ پانی تو میرے لیے ائے ہو میں اسے بوتل دینے والا تھا کہ میری نظر طاہرہ پکڑی طاہرہ نکاح کیا یہی احسن ہے تو عائشہ نے کہا ہاں پھر مجھے وہی بات یاد ائی جو عائشہ نے کی تھی کہ یہ ہر جگہ میرا نام کہتے ہیں کہ میں اس کا دیوانہ ہوں تو میں نے پانی کی بوتل کو کھول کر اس کے سر پر پانی گرا دیا اور کہنے لگا شکر مانو کہ میں لڑکیوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتا ورنہ اج تمہارا کیا حال ہوتا یہ میں بھی نہیں جانتا پھر میں جا کر اپنے دوست کے سیٹ پر بیٹھ گئے ہم سب ایک ساتھ بیٹھے تھے میرے دوست نے کہا تم نے ایسا کیوں کیا ہے تو میں نے کہا یہ ہر کسی سے کہتی ہے کہ میں اس کا دیوانہ ہوئی تو میرے دوست نے کہا تم تو ایسی باتوں پر توجہ نہیں دیتے میں بھی سوچا میں نے کہا کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے شاید میں طاہرہ کو دکھانا چاہتا تھا کہ میں کسی کا دیوانہ نہیں ہوں اس لیے میں نے اس سے کیا لیکن اس وقت مجھے کچھ سمجھ نہیں ا رہا تھا کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے تو میں نے کہہ دیا کہ میں دل کر رہا تھا اس پر پانی گرانے کو۔ کچھ دیر بعد زہر ہ اور عدنان اگئے وہ سیدھے میرے پاس ایا اور کہنے لگا احسن جو کچھ بھی ہو تمہیں زہرہ پر پانی نہیں گرانا چاہتا میں نے کہا اچھا زہر ہ تمہارے پاس گئی تھی مجھے لگا وہ روتے روتے شرم سے کہیں مر نہ جائے تو عدنان نے کہا اپنی حد میں رہو میں نے کہا میں پہلے بھی اپنی حد میں ہوں میں دوست نے کہا عدنان لگتا ہے اج تجھے بہت گرمی ہو رہی ہے اسی لیے تو یہاں گیا ہے شاید ہم اگے بات کرتے وہاں ریاضی کے پروفیسر اگئی پروفیسر نے کہا تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو اپنی کلاس میں جاؤ یہ سن کر عدنان اپنی کلاس میں چلا گیا سر نے کہا یہ نمبر تم سب کے ہیں میں یہاں یہ لگا رہا ہوں سب یہ نمبر دیکھ لینا اور جن بچوں کے نہیں ہیں کچھ دیر بعد پرنسپل صاحب ان سے بات کریں گے تو ہم نے کہا ٹھیک ہے پروفیسر صاحب ہماری ریاضی کے پروفیسر سے پورا کالج ڈرتا تھا یا پھر یہ کہا جائے کہ اگر پورے کالج میں بچے کے ساتھ بیٹھتے تھے تو وہ ہماری ریاضی کے پروفیسر تھے تو پروفیسر صاحب نے نمبر ون لسٹ لگائی اور چلے گئے
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD