قسط 8

1055 Words
ٹھیک ہے تم لوگ میرے بارے میں کیاجاننا چاہتے ہو عائشہ نے کہا سب کچھ کہ تم کوریا کیوں گئی تھی وہاں کس کے ساتھ رہتی تھی پاکستان میں تمہارے کون ہیں اس نے کہا ٹھیک ہے۔ طاہرہ نے کہا میرا نام تو تم جانتے ہو میرے ایک مامو ہیں اور ممانی ہیں اور ان کا ایک بیٹا ہے ایک چچا ہے اور ایک چاچی ہے ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے ایک نانا نانی دادا دادی ہیں۔ میں کوریا میں رہتی تھی پہلے میں پاکستان میں رہتی تھی میرے مما اور بابا کی پسند کی شادی ہوئی تھی وہ ہر وقت خوش رہتے تھے میرے بابا ہمیشہ میری مما کو مانتے تھے میری مما میرے بابا کی مانتی تھی ایک دن اچانک ایک بات پر میں اور بابا کا جھگڑا ہوا اس دن کے بعد وہ ہر دن لڑتے تھے میں ان کے لڑائی سے تنگ ا گئی تھی پھر بھی میں چاہتی تھی کہ وہ ہمیشہ ساتھ رہیں ایک دن میں اپنے دادا دادی کے پاس بیٹھی تھی مما اور بابا لڑنے لگے مما نے کہا تم مجھے طلاق دو میں نے دادا سے پوچھا یہ طلاق کیا ہوتا ہے دادا نے کہا جن لوگوں کا طلاق ہو جاتا ہے وہ الگ الگ رہتے ہیں تم تو نہیں چاہتی ہوگی کہ تمہاری مما بابا الگ الگ رہے ہیں میں نے کہا میں نہیں چاہتی دادا نے کہا پھر میری بات مانو جا کر اپنے مما اور بابا دونوں کو کہو کہ تم سے وعدہ کریں کہ وہ طلاق نہیں لیں گے میں نے بھی جا کر مما سے کہا مجھ سے وعدہ کرو کہ اپ کبھی بھی بابا طلاق نہیں دیں گے مما نے وعدہ کیا میں نے جا کر اپنے بابا کو کہا بھئی اپ مما سے طلاق نہیں ہوں گے بابا نے بھی مجھ سے وعدہ کیا اگلے دن ان دونوں کی پھر لڑائی ہوئی بابا نے غصے میں ا کر مما کو تھپڑ مار دیا پہلی مرتبہ بابا نے مکا ہاتھ اٹھایا تھا مما کو ساتھ مما نے کہا مجھے طلاق دیں اب ہم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے اور میں اپنے بیٹی کو اپنے ساتھ لے جاؤں گی۔ بابا نے کہا ٹھیک ہے اگلے دن گھر میں سب بڑے جمع ہوئے مما نے کہا مجھے طلاق چاہیے میں نے جا کر مما کو یاد دلایا اپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اپ طلاق نہیں دیں گے انہوں نے کہا ٹھیک ہے لیکن اب ہم اس کے ساتھ نہیں رہ سکتے میں یہ گھر چھوڑ کر چلی جاؤں گی اور میرے بیٹے کے بھی میرے ساتھ جائے گی بابا نے کہا ٹھیک ہے۔ تم چلی جاؤ اور اس سے بھی ساتھ لے جاؤ اس وقت بابا چاہتا تھے کہ مما کا غصہ ختم ہو جائے لیکن مما کو بہت غصے میں تھے انہوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ کبھی بھی بابا سے نہیں ملیں گی میرے مامو سے بات کی کہ میں یہاں نہیں رہنا چاہتی ماموں کوریا میں رہتے تھے مما مما کو کہا کہ وہ ان کے پاس لینا چاہتی ہیں ماموں نے کہا وہ کبھی بھی رہنے کے لیے ا سکتی ہیں یہ ان کا اپنا گھر ہے کچھ دن مما نانا نانی کے پاس رکی پھر وہ کوریا چلی گئی وہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے کر اس کے بعد میں کبھی پاکستان میں نہیں ائی وہاں پر جانے کے بعد مما نے میرا ایڈمیشن میرے کزن کے سکول میں کروایا ہم دونوں ایک ساتھ کرتے تھے میں نے وہاں ایک لڑکی کو اپنے دوست بنا یا اس لڑکی کو میں نے اپنی ہر بات بتائی اس لڑکی نے جا کر پورے سکون میں یہ بات پھیلا دی کہ میرے مما بابا الگ کے رہتے ہیں یہ بات سن کر بچوں نے مجھے بہت پریشان کیا ان لوگوں نے مجھے الگ کر دیا پھر میرے کزن نے مجھے سمجھایا کہ ہر کسی کے کوئی نہ کوئی مسئلہ ہوتا ہے جس نے ہمیں دوسروں پر توجہ نہیں دینا چاہیے خود کی زندگی پر توجہ دینی چاہیے پھر میں پڑھتی رہی اور اگے بڑھتی رہی میں نے تم لوگوں کو بتایا تھا کہ میں صبح کو باہر جاتی تھی شام کو نہ رہتی تھی اس طرح میری زندگی بہت اچھے گزر رہی تھی کہ ایک دن دادی کی کال ائی دادی نے کہا مما کو دادا کی بہت طبعت بہت خراب ہو گئی ہے مامو نے کہا کیا تم پاکستان واپس جانا چاہتی ہو اگر تم جانا چاہتے ہو تو میں ٹکٹ بک کر دوں گا مما نے کہا ہے میرے ساتھ کبھی بھی ماں اور بابا نے کچھ بھی غلط نہیں کیا میں کیوں ان کو ملنے نہ جاؤں میں جاؤں گا میری بات طاہرہ کے اگر وہ جاننا چاہتی ہے تو میں سے جانے دوں گی اگر وہ نہیں جانا چاہتی تو نہ جائے لیکن میں جاؤں گی میں نے کہا مما میں بھی جاؤں گی دیکھنا چاہتی تھی جو میرے نانا نانی دادا دادی یعنی میرا خاندان کیسا ہے میرے بابا کیسے ہیں میں سب کچھ یاد کرنا چاہتی تھی جو میں بچپن میں کرتی تھی مگر جب ہم پاکستان میں ائے میری مما اور میں ہوسٹل میں رکے ہم گھر نہیں گئی مما نے مجھے کہا اگر تم گھر جانا چاہتی ہو تو میں تمہیں جانے دوں گی لیکن میں نہیں جاؤں گی میں نے کہا اپ جا رہے ہو گے میں بھی وہاں رہوں گی اگلے دن ہم ہاسپٹل میں دادا کومی نے گئے دادا نے کہا کہ وہ ٹھیک ہیں مگر ڈاکٹر نے کہا کیا بن کو ٹینشن نہیں دینی چاہیے کیونکہ ان کو ہارٹ اٹیک ا چکا ہے دوبارہ ان پر ہم کچھ نہیں کر پائیں گے میری دادی نے میری مما کو بتایا کہ میں دادا چاہتے ہیں کہ میری مما واپس ا جائیں اور میں بھی میری مما نے خود دیر سوچا اور کہا ٹھیک ہے امی ہم واپس ا جائیں گے لیکن مجھے پاکستان میں انے میں کچھ وقت لگے گا کیونکہ مجھے اپنا بزنس پاکستان میں شفٹ کرنا ہوگا تو میں دادی نے کہا پھر طاہرہ کو یہی رہنے دو مما نے کہا ٹھیک ہے اس طرح میں کوریا میں سے پاکستان رہ گئے پھر میرا پاکستان کے کالج میں ایڈمیشن کروایا گیا کیونکہ میں اپنا وقت ضائع نہیں کر سکتی تھی اس لیے پاکستان کے کالج میں ایڈمیشن لے لیا یا کہ میری ماں ابھی تک واپس نہیں کوئی پتہ نہیں وہ مجھے واپس بلا لیں یا پھر نہیں ا جائے
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD