kooh-e-ana chapter 5

1104 Words
--- صبح چھ بج کر تین منٹ۔ لاہور ابھی سو رہا تھا، پر کیفے میں پہلے ہی ڈرامہ چل رہا تھا۔ باہر دو بلیک گاڑیاں کھڑی تھیں، اندر علیزے کے تین گارڈز earpiece لگائے کھڑے تھے۔ یہ زوہرہ کی "انا گارڈز" تھی — لاہور you میں مشہور کہ یہاں پرندہ بھی زوہرہ کی اجازت سے اڑتا ہے۔ زوہرہ وہی کرسی پر بیٹھی تھی، آنکھیں لال، بال بکھرے، ہاتھ میں کل رات والا ٹوٹا کپ۔ اس نے کپ کو دیکھا جیسے وہ اس کا ex ہو۔ عروہ نے لیپ ٹاپ کھولا۔ "ویڈیو اپلوڈ ہو گئی ہے۔ ابیہا کی عزت کا جنازہ یونیورسٹی گروپ میں لائیو ہے۔" علیزے نے بولا"واہ، صبح صبح entertainment۔" آیت نے چائے بنائی۔ "کسی کو یاد ہے ہم نے رات کو سویا تھا؟" نور: "ہاں، 2019 میں۔" وجیہہ فرسٹ ایڈ لے کر آئی۔ "زوہرہ، تمہارے ہاتھ پر کٹ ہے۔" زوہرہ نے ہاتھ دیکھا۔ "یہ؟ یہ تو فیشن ہے۔ ابیہا کا signature۔" سب ہنس پڑے۔ دس بجے یونیورسٹی گروپ پھٹ چکا تھا۔ میمز بن رہے تھے: *ابیہا سموسہ ایجنسی*۔ کوئی لکھ رہا تھا "مائیک والا سموسہ ایکسٹرا کرسپی"۔ اسی وقت گیٹ پر بیل بجی۔ گارڈ نے کیمرہ دیکھا — دعا۔ علیزے نے earpiece میں کہا: "ملکہ، پرانی چڑیا آئی ہے۔" زوہرہ نے بولا"سکین کرو۔ اگر سموسہ ہوا تو کتوں کو دے دینا۔" گارڈ نے دعا کو روکا۔ بیگ چیک، میٹل ڈیٹیکٹر، یہاں تک کہ اس کے دوپٹے کا کونہ بھی۔ کلین۔ "جاؤ۔ لیکن یاد رکھو، یہاں تمہاری ہر سانس ریکارڈ ہو رہی ہے۔" دعا کانپتے ہوئے اندر آئی۔ آنکھیں سوجی، دوپٹہ الٹا، ہاتھ میں ایک فائل۔ "وہ... مجھے ہاسٹل سے نکال دیا ہے۔" سناٹا۔ زوہرہ نے اسے اوپر سے نیچے دیکھا۔ "واہ۔ فیشن شو؟" دعا رونے لگی۔ "پلیز زوہرہ، مجھے جاب چاہیے۔ میں کچھ بھی کروں گی۔" زوہرہ نے چائے کا سپ لیا۔ "کچھ بھی؟" دعا نے سر ہلایا۔ "ٹھیک ہے۔" زوہرہ کھڑی ہوئی۔ "پہلا ٹاسک — میرے سامنے سے ہٹو۔ تمہاری شکل دیکھ کر میری چائے کڑوی ہو رہی ہے۔" آیت نے ہنسی روکی۔ علیزے نے منہ پر ہاتھ رکھا۔ دعا نے حیرانی سےبولا"مطلب؟" ذوہرہ :"مطلب مجھے تم پسند نہیں ہو۔ تم نے میرے کیک میں مائیک ڈالا، میرے سموسے میں مائیک ڈالا، کل کو تم میرے پراٹھے میں بھی مائیک ڈال دو گی۔ میں رسک نہیں لیتی۔" نور: "لیکن زوہرہ، اسے جاب چاہیے۔" زوہرہ نے سوچا۔ پھر مسکرائی — وہ والی مسکراہٹ جس سے سب ڈرتے ہیں۔ "ٹھیک ہے۔ جاب ملے گی۔ انٹرن شپ۔ بغیر تنخواہ کے۔" دعا: "چلے گا!" "کام کیا ہے؟" وجیہہ نے پوچھا۔ زوہرہ: "وہ باہر جو کچرے کا ڈبہ ہے نا، اسے دیکھنا۔ ہر گھنٹے بعد چیک کرنا کہ ابیہا اس میں تو نہیں گری۔" دعا کا منہ کھلا۔ "یہ جاب ہے؟" زوہرہ نے کہا،اسے ا چھی جوب کہیں نہیں ملے گی تمہیں سوچ لو " سب ہنس پڑے۔ عروہ نے ہنستے ہنستے لیپ ٹاپ گرا دیا۔ دعا: "اور... اور کچھ؟" زوہرہ: "ہاں۔ جب کسٹمر آئے تو ان سے پوچھنا 'چائے میں چینی کم یا دعا کم؟' کیونکہ دونوں ہی نقصان دہ ہیں۔" آیت نے چائے چھلکا دی۔ اسی وقت گیٹ پر پھر بیل۔ ابیہا۔ پیچھے اس کے ابو کا ڈرائیور۔ گارڈز نے گاڑی روکی۔ "میڈم اندر نہیں جا سکتی۔" ڈرائیور: "تمہیں پتہ ہے یہ کون ہے؟" علیزے آگے آئی۔ "ہاں۔ وہی جس کی ویڈیو آج پورے لاہور نے دیکھی ہے۔" ابیہا: "زوہرہ کو بلاؤ۔" میں آواز: "آنے دو۔ لیکن ڈرائیور باہر۔" گارڈز نے ابیہا کو سکین کیا۔ فون لیا، بیگ لیا۔ پھر اندر بھیجا۔ ڈرائیور کو کہا: "آپ یہیں ویٹ کریں۔ یہاں mafia کی پارکنگ فری نہیں ہے۔" ابیہا اندر آئی۔ میک اپ خراب، بال جیسے بجلی گری ہو۔ "ویڈیو ڈیلیٹ کرو۔" زوہرہ نے اسے دیکھا، پھر دعا کو۔ "واہ۔ آج تو buy one get one free ہے۔ ایک جاسوس کے ساتھ ایک باس فری۔" ابیہا: "میرے ابو نے مجھے گھر سے نکال دیا۔" زوہرہ: "مبارک ہو۔ welcome to the club۔ ہماری ممبرشپ فری ہے، عزت نہیں۔" ابیہا: "پلیز۔" زوہرہ کھڑی ہوئی، دعا کے پاس گئی، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "دیکھو دعا، تمہاری باس آ گئی۔ اب تم دونوں مل کر وہ برتن دھو گی جو تم نے کل رات میرے صبر کے توڑے تھے۔" دعا: "میں؟ اس کے ساتھ؟" ابیہا: "میں؟ اس کے ساتھ؟" زوہرہ: "ہاں۔ کیونکہ تم دونوں نے مل کر میرا دماغ خراب کیا ہے۔ اب مل کر میرے کپ دھو۔" علیزے نے دو اپرن پھینکے۔ ایک پر لکھا تھا "Team Mic"، دوسرے پر "Team Samosa"۔ وجیہہ: "یہ کس نے بنایا؟" عروہ: "میں نے۔ رات کو بور ہو رہی تھی۔" ابیہا نے اپرن دیکھا۔ "میں یہ نہیں پہنوں گی۔" زوہرہ نے ٹوٹا کپ اٹھایا۔ "ٹھیک ہے۔ پھر میں ویڈیو کا پارٹ ٹو اپلوڈ کرتی ہوں — 'ابیہا روتے ہوئے'۔" ابیہا نے فوراً اپرن پہن لیا۔ دعا نے بھی۔ اگلے دو گھنٹے کیفے میں کامیڈی شو تھا۔ دعا نے صابن زیادہ ڈال دیا، پورا سنک جھاگ سے بھر گیا۔ ایک گارڈ نے فوراً پانی بند کیا۔ "ملکہ کا کیفے ڈوبے گا نہیں۔" ابیہا پھسلی، گری، اٹھی، پھر گری۔ دوسرے گارڈ نے اسے پکڑا۔ "میڈم، گرنا منع ہے۔ یہاں صرف عزتیں گرتی ہیں۔" نور ویڈیو بنا رہی تھی۔ "یہ ٹک ٹاک پر جائے گا۔" زوہرہ کرسی پر بیٹھی انجوائے کر رہی تھی۔ "دیکھو آیت، یہی ہے female empowerment۔" آیت: "یہ تو female employment لگ رہا ہے۔" شام کو کسٹمر آیا۔ "ایک چائے۔" دعا گئی۔ "چینی کم یا دعا کم؟" کسٹمر کنفیوز۔ "دعا کم؟" زوہرہ پیچھے سے: "ہاں، کیونکہ دعا زیادہ ہو جائے تو کیک میں مائیک نکلتا ہے۔" پورا کیفے ہنس پڑا۔ گارڈز بھی۔ ابیہا برتن دھوتے دھوتے بولی: "تمہیں مجھ سے بدلہ لے کر مزہ آ رہا ہے؟" زوہرہ نے اس کے پاس آ کر سرگوشی کی: "نہیں۔ مزہ تو اب آئے گا جب تم کل بھی آؤ گی۔ اور پرسوں بھی۔" ابیہا: "میں کیوں آؤں گی؟" زوہرہ: "کیونکہ تمہارے پاس گھر نہیں ہے۔ اور میرے پاس وائی فائی ہے۔ اور باہر میرے گارڈز ہیں۔" رات کو کیفے بند ہوا۔ دعا اور ابیہا تھک کر بیٹھی تھیں۔ ہاتھوں میں جھاگ۔ زوہرہ نے ان کے سامنے دو کپ رکھے۔ "لو۔ اوور ٹائم بونس۔" دعا نے پیا۔ "یہ تو کڑوی ہے۔" زوہرہ: "ہاں۔ جیسے تمہاری وفاداری۔" ابیہا ہنسی۔ پہلی بار اصلی۔ "تم واقعی پاگل ہو۔" زوہرہ مسکرائی۔ "اور تم دونوں میری پاگل پن کی انٹرنز ہو۔ کل نو بجے۔ لیٹ ہوئیں تو گارڈز انٹری نہیں دیں گے۔" دعا: "تنخواہ تو ہے ہی نہیں۔" زوہرہ: "exactly۔" نور نے دروازہ لاک کیا۔ گارڈز نے باہر پوزیشن لی۔ "لاہور میں سب سو رہے ہیں۔" زوہرہ نے باہر دیکھا۔ "سو نے دو۔ کل انہیں پتہ چلے گا کوہِ انا کی ملکہ نے اپنی دشمنوں کو ڈش واشر بنا دیا ہے — اور وہ بھی VIP سیکیورٹی کے ساتھ۔" سب ہنسے۔ اور اس رات، پہلی بار، زوہرہ سوئی — دعا کو پسند کیے بغیر، لیکن اسے جاب دے کر۔
Free reading for new users
Scan code to download app
Facebookexpand_more
  • author-avatar
    Writer
  • chap_listContents
  • likeADD