---
رات ایک بج کر سترہ منٹ۔ لاہور کی سردی کھڑکیوں کے شیشے پر جم رہی تھی۔ کیفے کا شٹر نیچے تھا، اندر صرف ایک ٹیوب لائٹ جل رہی تھی۔
میز کے بیچ میں ٹوٹے ہوئے کیمرے کے ٹکڑے پڑے تھے۔ زوہرہ انہیں دیکھ بھی نہیں رہی تھی۔ وہ دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی تھی، بازو سینے پر، آنکھیں بند۔ اس کا جبڑا اتنا سخت تھا جیسے وہ دانتوں میں کچھ پیس رہی ہو۔
عروہ نے لیپ ٹاپ کھولا۔ اس کی انگلیاں کی بورڈ پر تیزی سے چل رہی تھیں۔ "کل رات کا بیک اپ۔ کیمرہ توڑنے سے پہلے میں نے کلاؤڈ sync نے کھینچ لیا تھا۔"
نور نے کچھ نہیں کہا۔ آیت نے چائے کا کپ پکڑا ہوا تھا، لیکن پی نہیں رہی تھی۔ علیزے خاموش تھی۔ وجیہہ میڈیکل باکس چیک کر رہی تھی۔
ویڈیو چلی۔
دعا کیفے سے باہر نکلتی ہے۔ فون کان پر۔ آواز صاف تھی۔
"ابیہا... وہ زوہرہ مجھے شک کی نظر سے دیکھ رہی تھی۔ مجھے لگتا ہے اسے پتہ چل گیا ہے۔"
ابیہا کی ہنسی۔ وہی ہنسی جو زوہرہ نے دو سال پہلے لاہور یونیورسٹی کے لان میں سنی تھی۔ "تو کیا ہوا؟ کیک کھایا انہوں نے؟"
"نہیں۔ وجیہہ نے روک لیا۔ اس نے کہا پہلے چیک کرے گی۔"
"کوئی بات نہیں۔ کل سموسے لے کر جانا۔ اس بار مائیک سموسے میں رکھنا۔ کریم میں نہیں۔"
ویڈیو رکی۔
کمرے میں اتنی خاموشی تھی کہ ٹیوب لائٹ کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
آیت نے کپ نیچے رکھا۔ اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ "میں... میں اسے اپنی دوست سمجھتی تھی۔"
زوہرہ نے آنکھیں کھولیں۔ وہ آہستہ آہستہ آیت کے پاس آئی، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ نرمی سے نہیں، جیسے اسے گرنے سے روک رہی ہو۔
"تمہاری غلطی نہیں ہے۔" زوہرہ کی آواز نیچی تھی، لیکن اس میں وہ ٹھنڈک تھی جو سب کو ڈرا دیتی تھی۔ "غلطی میری ہے۔ میں نے اسے اندر آنے دیا۔"
علیزے بولی، "اب کیا کریں؟"
زوہرہ نے ٹوٹے کیمرے کا سب سے بڑا ٹکڑا اٹھایا۔ اسے اتنی زور سے دبایا کہ اس کے ہاتھ سے خون کی ایک بوند نکلی۔ اس نے دیکھا بھی نہیں۔ "کل وہ آئے گی۔ سموسے لے کر۔ ہم انتظار کریں گے۔"
اس رات دعا کے جانے کے بعد وہ لوگ سوئے نہیں۔
عروہ نے پوری رات بیٹھ کر کیفے کے ہر کونے میں نئے مائیک ڈیٹیکٹر لگائے۔ نور نے شٹر کے پیچھے لوہے کی راڈ چھپائی۔ علیزے نے گیٹ پر نیا تالا لگایا اور چابی زوہرہ کو دی۔ وجیہہ نے فرسٹ ایڈ کٹ میں صرف پٹی نہیں، ایک چھوٹا بلیڈ بھی رکھا — "احتیاط" کہہ کر۔ آیت ساری رات دعا کی پرانی چیٹس پڑھتی رہی۔
زوہرہ؟ وہ سب سے آخر میں بیٹھی۔ اس نے اپنا پرانا یونیورسٹی کا کارڈ نکالا، جس پر ابیہا نے لال مارکر سے "LOSER" لکھا تھا۔ اس نے اس کارڈ کو لائٹر سے جلایا، اور راکھ کو اپنی چائے میں گھولا۔ پیا نہیں۔ صرف دیکھتی رہی۔
صبح چار بجے اس نے سب کو دیکھا اور صرف ایک جملہ کہا: "کل کوئی ہنسے گا نہیں۔"
نور نے سر ہلایا۔ "اور ابیہا؟"
"وہ بھی آئے گی۔" زوہرہ نے ٹکڑا جیب میں ڈالا۔ اس کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی، صرف آگ تھی۔ "جب اسے لگے گا اس کا کھیل ختم ہو گیا ہے۔"
---
اگلی شام۔ سات بج کر بارہ منٹ۔
بارش پھر شروع ہو چکی تھی۔ کیفے میں سب اپنی جگہ پر تھے۔ کوئی بات نہیں کر رہا تھا۔ زوہرہ نے اپنا کوٹ نہیں اتارا تھا۔ اس کے بوٹ کیچڑ میں تھے۔ وہ کرسی پر نہیں، کاؤنٹر پر بیٹھی تھی، جیسے شکاری۔
دروازے کی گھنٹی بجی۔
دعا اندر آئی۔ سفید شلوار قمیض، اوپر ہلکا سا کوٹ۔ ہاتھ میں اسٹیل کا بڑا ڈبہ۔ چہرے پر وہی مسکراہٹ جو کل رات ویڈیو میں نہیں تھی۔
"ہیلو ایوری ون! میں نے سوچا کل تھوڑی misunderstanding ہو گئی تھی، تو میں نے خود سموسے بنائے ہیں۔ گرم ہیں۔"
کسی نے جواب نہیں دیا۔
زوہرہ اپنی جگہ سے ہلی بھی نہیں۔ ٹانگ پر ٹانگ۔ چائے کا کپ سامنے، ٹھنڈا۔ اس نے دعا کو دیکھا، پلک بھی نہیں جھپکی۔ اس کی نظریں دعا کے گلے پر تھیں، جیسے وہ سانس گن رہی ہو۔
وجیہہ اٹھی۔ اس نے دعا کے ہاتھ سے ڈبہ لیا۔ بغیر پوچھے۔ میز پر رکھا۔ کھولا۔
بھاپ نکلی۔ سموسوں کی خوشبو۔
وجیہہ نے ایک سموسہ اٹھایا۔ توڑا۔ اندر سے ایک چھوٹا سا کالا دانہ نکلا۔ مائیک۔
اس نے مائیک نکال کر میز پر رکھ دیا۔ پھر دوسرا سموسہ توڑا۔ اس میں بھی۔ تیسرا۔ چوتھا۔ چار مائیک۔
دعا کا چہرہ سفید ہو گیا۔
"یہ... یہ کیا ہے؟ مجھے نہیں پتہ..."
زوہرہ آہستہ سے کھڑی ہوئی۔ کرسی پیچھے سرکی۔ وہ دعا کے سامنے آ کر رکی۔ اتنا قریب کہ دعا کو اس کی سانس محسوس ہو رہی تھی۔ زوہرہ کی خوشبو نہیں، اسٹیل کی تھی۔
"بیٹھو۔"
دعا بیٹھ گئی۔ اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔
زوہرہ نے میز پر ہاتھ رکھا، جھکی۔ "تم نے کل رات ابیہا کو فون کیا تھا۔ تم نے کہا تھا میں شک کر رہی ہوں۔"
دعا نے تھوک نگلا۔ "نہیں... میں نے..."
"جھوٹ مت بولو۔" زوہرہ کی آواز اب بھی اونچی نہیں تھی، لیکن ہر لفظ پتھر کی طرح لگا۔ اس نے میز پر رکھا مائیک اٹھایا اور دعا کے سامنے رکھ دیا۔ "ہم نے ویڈیو دیکھی ہے۔"
دعا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "پلیز زوہرہ، مجھے مجبوری تھی۔ ابیہا نے کہا اگر میں نہ کروں تو وہ میری سکالرشپ ختم کروا دے گی۔ میرے ابو بیمار ہیں..."
زوہرہ سیدھی ہوئی۔ اس نے اپنا ہاتھ دعا کے گال کے پاس لایا، لیکن چھوا نہیں۔ "مجبوری۔"
اس نے لفظ دہرایا۔ پھر اس کی آواز بدل گئی — اب وہ سرد نہیں، جلتی ہوئی تھی۔
"دو سال پہلے میری بھی مجبوری تھی۔ جب ابیہا نے مجھے پوری یونیورسٹی کے سامنے تھپڑ مارا تھا۔ جب اس نے کہا تھا لاہور میں میری کوئی جگہ نہیں۔ تب میں نے فیصلہ کیا تھا کہ آج کے بعد میں کسی کی مجبوری نہیں سنوں گی۔ میں صرف جواب دوں گی۔ اور میرا جواب ہمیشہ آخری ہوتا ہے۔"
اس نے اپنا فون نکالا۔ دعا کا نمبر نہیں، ابیہا کا۔ کال ملائی۔ اسپیکر آن۔
ایک رنگ۔ دو رنگ۔ تین۔
"ہیلو دعا؟ بولو، کام ہوا؟"
زوہرہ بولی۔ "نہیں۔"
دوسری طرف خاموشی۔ پھر۔ "زوہرہ؟"
"ہاں۔ میں۔"
ابیہا ہنسی۔ "واہ۔ تو پکڑ لیا تم نے میری چڑیا کو؟"
"تم نے غلط گھر میں چڑیا بھیجی ہے ابیہا۔" زوہرہ نے ہر لفظ چبا کر بولا، اس کی آواز میں وہ دھمکی تھی جس سے نور بھی پیچھے ہٹ گئی۔ "یہ کیفے نہیں ہے۔ یہ میری حد ہے۔ اور میری حد میں قدم رکھنے والے واپس نہیں جاتے۔"
"تو کیا کر لو گی؟ پولیس کو بلاؤ گی؟"
"نہیں۔" زوہرہ نے دعا کی طرف دیکھا۔ دعا رو رہی تھی۔ زوہرہ مسکرائی — وہ مسکراہٹ جسے دیکھ کر آیت نے آنکھیں بند کر لیں۔ "کل رات دو بجے۔ تم یہاں آؤ گی۔ اکیلی۔"
"کیوں آؤں؟"
"کیونکہ اگر تم نہیں آئیں تو میں تمہارے گھر آؤں گی۔ اور تم جانتی ہو میں خالی ہاتھ نہیں آتی۔ میں حساب لے کر آتی ہوں۔"
کال کٹ گئی۔
زوہرہ نے فون میز پر پٹخا۔ اسکرین پر کریک آ گیا۔ پھر دعا کی طرف مڑی۔
"اٹھو۔"
دعا کھڑی ہوئی۔
"جاؤ۔ ابیہا کو میرا پیغام دے دو۔ اسے بتا دینا کہ زوہرہ اب وہ لڑکی نہیں رہی جو یونیورسٹی میں رو کر گھر گئی تھی۔ اسے بتا دینا کہ لاہور میں اب دو ہی نام چلیں گے۔ ایک میرا۔ دوسرا اس کا جو میرے ساتھ کھڑا ہوگا۔ اور جو میرے خلاف کھڑا ہوگا، اس کا نام کوئی یاد نہیں رکھے گا۔"
دعا نے سر ہلایا۔ وہ دروازے کی طرف مڑی۔
"دعا۔" زوہرہ نے پیچھے سے آواز دی۔ وہ آواز اتنی ٹھنڈی تھی کہ دعا جم گئی۔
دعا رکی۔
"آئندہ کبھی میرے شہر میں کسی کا جاسوس بن کر مت آنا۔ کیونکہ اگلی بار میں تمہیں جانے نہیں دوں گی۔ میں تمہیں یہیں دفن کروں گی۔"
دعا بھاگی۔ دروازہ کھلا، بارش کی آواز اندر آئی، پھر بند۔
کافی دیر تک کوئی نہیں بولا۔
پھر زوہرہ نے میز پر پڑے چاروں مائیک اٹھائے۔ اپنی مٹھی میں بند کیے۔ پلاسٹک چٹخنے کی آواز آئی۔ اس کے ہاتھ سے خون نکلا، لیکن اس نے پرواہ نہیں کی۔ اس نے ٹکڑے کوڑے دان میں پھینک دیے۔
"عروہ۔"
"جی۔"
"کل رات دو بجے کے لیے سب کیمرے آف۔ لائٹس آف۔ دروازے لاک۔ کوئی اندر نہیں، کوئی باہر نہیں۔"
"ڈن۔"
"وجیہہ۔"
"ہاں۔"
"کٹ تیار رکھو۔ اور بلیڈ تیز رکھنا۔"
وجیہہ نے سر ہلایا۔
"علیزے۔"
"بولو۔"
"تم گیٹ پر ہوگی۔"
علیزے مسکرائی۔ خطرناک مسکراہٹ۔ "ہمیشہ کی طرح۔"
نور نے آہستہ سے پوچھا، "زوہرہ... تم ٹھیک ہو؟"
زوہرہ نے ٹھنڈی چائے کا کپ اٹھایا۔ ایک گھونٹ لیا۔ پھر کپ کو اتنی زور سے میز پر رکھا کہ وہ ٹوٹ گیا۔ چائے میز پر پھیل گئی، اس کے ہاتھ پر لگی، لیکن وہ ہلی نہیں۔
"نہیں۔" اس نے کہا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، لیکن آنسو سے نہیں، غصے سے۔ "میں ٹھیک نہیں ہوں۔ میں غصے میں ہوں۔ اور جب میں غصے میں ہوتی ہوں تو لاہور خاموش ہو جاتا ہے۔"
اس نے ٹوٹے کپ کا سب سے نوکیلا ٹکڑا اٹھایا۔ اسے اپنی انگلی پر پھیرا۔ خون کی ایک لکیر۔ اس نے وہ خون میز پر لگایا۔
"کل رات۔ یہ شہر دیکھے گا کہ کوہِ انا کی ملکہ کیسے حساب لیتی ہے۔ اور حساب خون سے لکھا جاتا ہے۔"
سب نے سر ہلایا۔
باہر بارش تیز ہو گئی تھی۔ اندر طوفان تیار تھا۔