bc

ZombieWar - Red Zone's Alert

book_age4+
2
FOLLOW
1K
READ
second chance
goodgirl
bxg
campus
another world
sassy
polygamy
like
intro-logo
Blurb

Urdu Novel

یہ ایک اردو ناول ہے۔ اور اس کی کہانی بیسڈ ہے۔ ایک زومبی وار پر۔ زومبیز نے دنیا پر حملہ کر دیا ہے اور سب کچھ ختم ہونے والا ہے۔ اتنے میں کاظم اور اس کی ٹیم، بریعہ، جلال۔۔ یہ سب ایک آخری اینٹی ڈوڈ لے کر جاتے ہیں۔ دنیا کو بچانے۔

chap-preview
Free preview
پہلی قسط
ZombieWar - Red Zones Alert Season - 1 Episode - 1 Writer - Daoud Ibrahim مجھے نہیں معلوم کہ یہ کھیل شروع کیسے ہوا۔مگر وہ کہتے ہیں نا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کھیل شروع کون کرتا ہے بلکہ فرق تو اس سے پڑتا ہے کہ اس ختم کون کرے گا۔ اسلام! یہ چاروں اس وقت کسی صحرا میں موجود تھے۔ نہیں معلوم کہ کونسا صحرا مگر جس طرف بھی دیکھا جائے سوکھا ہی سوکھا نظر آتا تھا ۔حدودِنظر میں کہیں بھی کوئی آدم زرد نہ تھا ۔ سوائے کاظم ،ب‍‍ریعہ ، اور ان دونوں جڑواں عمر اور عامر کے ۔ یہ چاروں کسی ٹھکانے کی تلاش میں تھے۔ جس میں وہ سکون کے ساتھ رات گزار سکیں۔ ذرا آگے بڑھے تو اس ریگستان میں انھیں ایک لکڑی کا مکان نظر آیا ۔ انھیںں دماغی طور پر سکون ملا کہ شاید اب ان کو کوئی اور ٹھکانہ ڈھونڈنے کی ضرورت نہ پڑے گی ۔ اس مکان میں ایک کار کے علاوہ کچھ گھریلو سامان تھا۔دو ہی کمرے تھے جو کہ آمنے سامنے تھے جن کے درمیان میں کار کھڑی تھی ۔ اس دو منزلہ مکان کا نچلا حصہ مکمل طور پر ڈھکا ہوا تھا ۔ چاروں بھاگ کر اس مکان میں گھس گئے ۔ اس مکان کا دروازہ الیکٹریکلی بند ہوتا تھا ۔ یعنی ایک بٹن کے ذریعے اسے بند کیا اور کھولا جاتا تھا ۔ کاظم نے بھاگ کر سب سے پہلے کھڑکیاں اچھی طرح سے بند کیں ۔ تو پھر اسے سکون ملا اور وہیں دیوار کو پیٹھ لگا کر بیٹھ گیا۔ اور سانسیں بھرنے لگا ۔ دوپہر کی دھوپ نے لو کو مزید بڑھا دیا ۔ اب اس ریگستان میں شام کی وحشت چاروں طرف پھیلنے لگی تھی۔بھوک بڑھنے لگی ۔ چاروں نے اس مکان کی چھان بین شروع کی ۔ کاظم مکان کے نچلے حصے کی چھان بین کرنے لگا ۔ اسے بھی یہ امید تھی کہ شاید کچھ کھانے کو مل جائے ۔ لیکن جیسے جیسے وہ بڑھ رہے تھے کسے مردار کے جسم کی بدبو آنے لگی تھی ۔ دیواروں پر خون کے دھبے اور سامان کو بکھرا ہوا دیکھ کر یہ معلوم ہوتا تھا کہ یا تو یہ کسی انفیکٹد (Infected = ہر وہ شخص یا جاندار ، جو اس وائرس کا شکار ہو چکے تھے ) کا گھر تھا یا تو پھر اس پر ان انفکٹڈز نے حملہ کیا تھا ۔ یعنی انفکٹڈز یہاں پہنچ چکے تھے اور ہتھیاروں سے بھرا بیگ دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ یہ مکان جس کا بھی تھا اسے معلوم تھا کی وہ آنے والے ہیں ۔ کوئی ایسا جس کو ان کی آمد کی خبر تھی اور تیاری مکمل کر کے ان کے انتظار میں تھا مگر پھر بھی ان کے وار سے بچ نہ سکا ۔کاظم کمرے میں پڑے ہتھیاروں بھرے بیگ کی زپ کو بند کر کے کمرے سے باہر آیا اور کار کو چیک کرنے لگا ۔ اور وہ جڑواں عمر اور عامر چھت پر چلے گئے جو کہ دوسری اور آخری منزل تھی ۔ کاظم کے پاس وہ بیگ تھا ۔ جس میں اس وائرس کا اینٹیڈود موجود تھا ۔ یہ چاروں ایک دوسرے کو اس وائرس کے پھیلنے سے پہلے نہیں جانتے تھے ۔ وہ جڑواں ایک دوسرے کو جانتے تھے ۔ مگر کاظم اور بریعہ یہ دونوں ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے ۔ کاظم جو کہ اب گاڑی کو چیک کر ریا تھا ، میز پر پڑھے پانی کے جگ کی طرف بڑھتی ہوئی بریعہ سے پوچھا " اچھا ! تو تمھارا نام بریعہ ہے " " اووو۔۔۔اچھا تو تم بول بھی سکتے ہو۔۔۔۔۔نائس " یہ کہہ کر بریعہ نے منرل واٹر کی بوتل کو منہ لگایا ۔ " اور محترمہ کو ایسا کیوں لگا " " اچھا۔۔اچھا تو پچھلے سات گھنٹے سے زبان کو تالا لگایا تھا؟ " " ہیلو مس، جتنا کم بول سکو اتنا ہی بہتر ہو گا آپ کے لیے بھی اور ہم سب کے لیے۔۔۔۔" " کافی کچھ پتہ کر رکھا ہے تم نے ان ادھ مردوں کے بارے میں۔۔۔۔۔۔کہیں کوئی چکر تو نہیں تھا ان ادھ مروں کے ساتھ۔۔۔۔۔" " اااااا۔۔۔۔مس آپ ان کو ادھ مرا کہنا بند کر دیں پلیز اور ان انفکٹڈز کو آپ زومبیز کہہ سکتی ہیں " یہ کہتے ہوئے کاظم کار کی کچھ سیٹنگ کر رہا تھا جس سے اسے یہ چلانے میں آسانی ہو کیونکہ اب ان کو اس میں ہی سفر کرنا تھا۔ بریعہ حیران ہوئی اور پانی کی بوتل کو مکمل گٹکنے کے بعد بولی۔ " ہیییں اتنی عزت آئی مین مس بھی اور پلیز بھی۔۔۔۔نہ کر یار ہضم نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔اور تیرا کہیں کسی ادھ مری سے چکر تو نہیں۔۔۔جو تو ان کی اتنی حمایت کر رہا ہے۔۔۔آئی مین ہو سکتا ہے نا کہ۔۔۔۔۔کسی نا۔۔۔۔کسی۔۔۔سے تو۔۔۔۔( اور اس کے ساتھ اپنی بات کا کوئی مطلب نہ پا کر خود ہی مسکرانے لگی لیکن کاظم نے کوئی ری ایکشن نہیں دیا تھا۔وہ کار کو گھورنے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔۔اور پھر وہ چپ ہو گئی اور ہاتھوں کو کمر پہ رکھ کر منہ اٹھائے ٹہلنے لگی۔۔۔۔جیسے کچھ سوچ رہی ہو اور رائیٹر صاحب کو بھی حیرت ہو رہی تھی کہ وہ سوچتی بھی ہے؟۔ پھر ٹہلتے ٹہلتے سیڑھیوں کے پاس جا کے جو کہ چھت کر طرف جاتی تھیں، رک گئی اور جلدی سے کاظم کے پاس گئی جو کہ کار کا انجن چیک کر رہا تھا اور بولی۔ " تمیں کیا لگتا ہے ان دونوں کے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔ آئی مین ان دونوں کے ساتھ کچھ گڑ بڑ ہے۔ " " گڑ بڑ۔۔۔۔۔ کیسی گڑ بڑ " کاظم چونک پڑا۔ اسے لگا کہیں وہ دونوں انفیکٹڈ نہ ہو۔ " ارے تمہیں ان دونوں بھائیوں کو دیکھ کر شک نہیں ہوتا کیا۔۔۔ اور وہ بڑے والا، پتہ نہیں ہے کون پر کتنا بڑا ٹھرکی ہے؟ چوبیس گھنٹے مجھے گھورتے رہتا ہے ۔ دل تو کرتا ہے کہ اس کی دل بھر کے کوٹ لگائوں " " لیکن چوبیس گھنٹے تو ہمیں ملے ہوئوں کو ہوۓ ہی نہیں " " لفظوں کو چھوڑو۔۔۔۔۔ معنوں کو پکڑو یار ۔۔۔۔۔۔۔بتاؤ میرے ساتھ ان کی کوٹ لگاؤ گے" " ان کو بعد میں دیکھ لینا، ابھی مجھے کار سیٹ کرنے دو، ابھی تو اس میں فیول بھی بھرنا ہے " " ارے ..... ارے۔۔۔۔۔۔ ارے۔۔۔۔۔۔ اتنی حسین و جمیل لڑکی تم سے مدد کے لیے کہہ رہی ہے اور تم سمجھ کیا رہے ہو خود کو اور ویسے بھی میں تم سے تو زیادہ ہی بہادر ہوں۔ دیکھا تھا نا ان زومبیر کو میں نے ہی مارا تھا اور تمھیں بچا بھی لیا تھا۔ " کاظم کے ہاتھ سے ایک اوزار چھوٹ کر نیچے پکے فرش پر گرا۔ جس سے ایک اونچی چونکا دینے والی آواز پیدا ہوئی جس سے بریعہ چونک کر کھڑی ہو گئی۔ جسے دیکھ کے کاظم دل ہی دل میں ہنسنے لگا ۔ اتنے میں اوپر سے ان دونوں بھائیوں میں سے چھوٹے بھائی عامر نے ان کو آواز دی " گائیز ! ذرا جلدی سے اِدھر آؤ " کاظم اور بریعہ جلدی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھے ۔ اوپر ایک ہیلی کاپٹر کھڑا تھا ۔ اور قریب ہی دو لاشیں پڑی تھیں۔ جن میں سے ایک نے سفید وردی پہنی ہوئی تھی۔ جو کی خون سے بری طرح لت پت تھی۔ اور اس کا آدھا گلا یعنی ایک سائیڈ سے گلا زومبیز نے بری طرح سے کاٹا تھا۔ اور گوشت الگ کر دیا تھا ۔ قریب ہی ایک اور لاش پڑی تھی۔ جس کی حالت بتانے لائق نہیں تھی۔ ان میں سے بڑا بھائی عمر بولا۔ " لیکن ایک پرابلم ہے...... اس کاپٹر میں صرف دو لوگ ہی بیٹھ سکتے ہیں۔ اور وہ کو یہیں رہنا ہو گا ۔۔۔۔۔ اب ایک تو پائلٹ ہو سکتا ہے یعنی جسے یہ ہیلی کاپٹر چلانا آتا ہو اور دوسرا کوئی اور ہو سکتا ہے ۔ ہمیں یہ بھی طے کرنا ہو گا کہ کون کون جا سکتا ہے ۔ " کاظم بولا - " اااااا۔۔۔۔۔ دیکھو مجھے یہ ہیلی کاپٹر چلانا نہیں آتا۔۔۔۔اور میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ اینٹیڈوڈ راولپنڈی ائی ایس آئی ہیڈکوارٹرز پہنچ جاۓ تاکہ وقت رہتے اسے استعمال کیا جا سکے " عمر بولا " میں اسے چلا سکتا ہوں لیکن یہ طے کرو کہ میرے ساتھ کسے جانا چاہیے " کسی نے بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا کہ عمر کا چھوٹا بھائی عامر جوکہ کافی ڈرپوک تھا گھبراتے ہوئے بولا۔ " کسی اور کو بھی یہ زلزلاہٹ محسوس ہو رہی ہے یا بس میں ہی ہوں " پھر سب نے دھیان کیا تو سب کو ایک بڑھتی ہوئی زلزلاہٹ محسوس ہوئی۔ جو کہ مزید سے مزید تر ہوتی جارہی تھی ۔ چاروں کی ہڑبڑاہٹ بھی بڑھ گئی ۔ عمر نے آگے بڑھ کر دیکھا تو دور کہیں گردوغبار آسمان کی طرف آٹھتی ہوئی دیکھائی دی۔ اس غبار کے نیچے سے ایک آدمخور لشکر نمودار ہونے لگا جو کہ کافی تیزی سے بھاگ دوڑ کر رہا تھا لیکن شُکر تھا کہ آدمخوروں کو ان کے ہونے کی بھنک تک نہ تھی ۔ اب کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ وہاں ایسا کیا تھا کہ وہ آدمخور وہاں یوں جھنڈ کی شکل کھڑے تھے ۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ کسی چیز کی توڑ پھوڑ کررہے ہیں۔ شاید وہ کوئی کار تھی۔ اور ظاہر تھا کہ وہ کار جو کہ پہلے وہاں نہیں تھی لیکن اب موجود ہے۔ تو اسے چلانے والا یا چلانے والے اس کے اندر ہی ہونگے اور ان آدمخوروں کے گھیرے میں ہی ہونگے۔ اب کاظم کو یہ چیز ستا رہی تھی کہ وہاں کون ہے؟ یا ہم اسے بچا سکیں گے یا نہیں؟ اسی متعلق سوچ بچار کرنے کے بعد وہ کھڑا ہوا اور جلدی سے نیچے چلا گیا۔ اس کے پیچھے پیچھے بریعہ بھی بھاگی اور پھر دونوں جڑواں بھی نیچے پہنچے۔ " اوۓ تم کیا کرنے لگے ہو ؟ کاظم۔۔۔۔۔۔۔۔کاظم۔۔۔" کاظم نے جلدی سے بیگ میں سے ایک شوٹ گن اور ایک کلہاڑا نکال کر پیٹھ پر لٹکایا اور عمر سے مخاطب ہوا " تم سب اس بیگ میں سے ہتھیار لو اور چھت پر سے مجھے بیک اپ دیتے رینا میں اس آدمخوروں کے گروہ کے پاس جا رہا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہاں ضرور کوئی ایسا ہے جسے ہماری مدد کی ضرورت ہے. " یہ سب سن کر بریعہ اور وہ دونوں کاظم کی ہمدردی سے متاثر ہوۓ ۔ بریعہ نے اسے روکنا چاہا مگر کچھ کہہ اور ظاہر نہ کر سکی اور کاظم نے اپنے گلے سے بیگ نکالا اور بریعہ کو تھماتے ہوۓ کہا. "اِس بیگ میں اُس وائرس کا اینٹیڈوڈ ہے یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اسے اس کے مقام تک پہنچاؤں ۔ لیکن اگر میں نہ لوٹ سکا تو کیا میں یہ امید کر سکتا ہوں کہ تم اسے اس کے مقام تک پہنچا دو گی؟ کیا تم اسے ہیڈکوارٹرز پہنچا دو گی؟........پہنچاؤ گی۔۔۔۔بولو " دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے۔ تو بریعہ نے سر ہلا کر مثبت تاثر دیے ۔ جب تک وہ مکمل طور پر کچھ سمجھی کاظم وہ الیکٹریکل دروازہ کھول کر کے آ گے نکل چکا تھا ۔ لیکن بریعہ اسے ویسے ہی کھڑی دیکھتی رہی۔اور جلدی ہی ان دونوں کے پاس چھت پر چلی گئی ۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔ کاظم کافی دور تک آگے نکل چکا تھا۔ وہ ایسے ہی پتھروں کی اوٹ میں چھپ چھپ کر آگے بڑھ رہا تھا ۔ اب اسے وہ کار واضع نظر آنے لگی تھی۔ کاظم آدھے سے تھوڑا کم فاصلہ طے کر چکا تھا۔ اسے کار میں بیٹھے دو لوگ نظر آرہے تھے جو کہ مر چکے تھے ۔ وہ تھوڑا افسردہ ہوا۔ اور ایک سانس بھری ۔ لیکن پھر اچانک مکان سے ہیلی کاپٹر کی سٹارٹ ہونے کی آواز آئی۔ ہیلی کاپٹر کے انجن کی اونچی آواز ایک کلومیٹر دور کھڑے اُن آدمخوروں تک بہت جلد ہی پہنچ گئی۔ وہ سب بجلی کی سی رفتار سے اس آواز کی طرف بڑھنے لگے۔ تین گھنٹے کی محنت اور محبت سے آپکے لیے یہ اینٹرٹینمنٹ تیار کیا جاتا ہے۔ تو کیا آپ نہیں چاہیں گے کہ ہیمیں اس محبت کا صلہ ملے۔ اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ لمبے لمبے کمنٹس سے ہمارا دل بھی خوش کریں۔ - - - جاری ہے۔۔۔ by Daoud Ibrahim

editor-pick
Dreame-Editor's pick

bc

30 Days to Freedom: Abandoned Luna is Secret Shadow King

read
315.3K
bc

Too Late for Regret

read
322.1K
bc

Just One Kiss, before divorcing me

read
1.7M
bc

Alpha's Regret: the Luna is Secret Heiress!

read
1.3M
bc

The Warrior's Broken Mate

read
145.3K
bc

The Lost Pack

read
441.1K
bc

Revenge, served in a black dress

read
154.1K

Scan code to download app

download_iosApp Store
google icon
Google Play
Facebook